مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,648 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,648
کھیل

فیفا ورلڈ کپ 2026: بیلجئیم نے امریکہ کو 4-1 سے شکست دی، ٹرمپ کا دباؤ ناکام

📅 بدھ، 08 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

سیاٹل (نمائندۂ خصوصی)۔ فیفا ورلڈ کپ 2026 کے راؤنڈ آف 16 کے ایک انتہائی سنسنی خیز اور متنازعہ مقابلے میں بیلجئیم نے میزبان ملک امریکہ کو 4-1 سے عبرت ناک شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا ہے۔ سیاٹل اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں جہاں فٹ بال کا عروج دیکھنے کو ملا، وہی میچ سے قبل کھڑا ہونے والا وہ سیاسی طوفان بھی دم توڑ گیا جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسٹار فارورڈ فولارین بالوگن کی پابندی ختم کرانے کے لیے فیفا پر مبینہ دباؤ اور اس کے بعد ہونے والے ڈرامائی فیصلوں نے اس میچ کو تاریخ کا حصہ بنا دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا فون اور فیفا کا تاریخی یو ٹرن

اس میچ کا اصل ڈراما میدان میں اترنے سے کئی روز پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔ گزشتہ میچ میں بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کے خلاف فولارین بالوگن کو ایک فاؤل پر ریڈ کارڈ دکھا کر اگلے میچ کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔ امریکہ کے لیے اپنے سب سے بہترین فارورڈ کے بغیر بیلجئیم جیسی مضبوط ٹیم کا سامنا کرنا ناممکن دکھائی دے رہا تھا، لیکن پھر انٹری ہوئی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو کو براہ راست فون کھڑکھڑا دیا اور اس ریڈ کارڈ کو "شدید ناانصافی” قرار دیتے ہوئے اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا، "میں کھیلوں کو اچھی طرح سمجھتا ہوں، یہ کوئی فاؤل نہیں تھا بلکہ دو تیز رفتار کھلاڑیوں کا آپسی ٹکراؤ تھا۔”

حیرت انگیز طور پر، فیفا کی ڈسپلنری کمیٹی نے اپنے قانون کے آرٹیکل 27 کا سہارا لیتے ہوئے بالوگن پر عائد ایک میچ کی پابندی کو ایک سال کے لیے معطل کر دیا، جس کے بعد وہ بیلجئیم کے خلاف کھیلنے کے لیے اہل قرار پائے۔ یہ ورلڈ کپ کی تاریخ میں 1962 کے بعد پہلا موقع تھا جب کسی کھلاڑی کا ریڈ کارڈ اس طرح معطل کیا گیا ہو۔ اس فیصلے پر فٹ بال کی دنیا میں ایک زلزلہ آ گیا اور بیلجئیم فٹ بال ایسوسی ایشن نے اسے فیئر پلے کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔ بیلجئیم کے کوچ روڈی گارسیا نے طنز کرتے ہوئے کہا، "مجھے نہیں معلوم تھا کہ فیفا کے دفاتر میں جولائی کے مہینے میں اپریل فول منایا جاتا ہے۔”

میدان جنگ کا احوال: بیلجئیم کا جارحانہ آغاز

جب میچ شروع ہوا تو اسٹیڈیم میں موجود 67,000 سے زائد امریکی شائقین نے بالوگن کا نام پکارے جانے پر ایسا تاریخی شور مچایا کہ بیلجئیم کے حامیوں کی آوازیں دب کر رہ گئیں۔ لیکن امریکیوں کا یہ جشن زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکا۔ میچ کے نویں منٹ میں ہی بیلجئیم کے چارلس ڈی کیٹیلیئر نے امریکی دفاع کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گیند کو نیٹ میں پہنچا دیا اور پورے اسٹیڈیم پر سانپ سونگھ گیا۔

امریکہ نے میچ میں واپسی کی سرتوڑ کوششیں کیں اور 31 ویں منٹ میں ملک ٹلمین نے ایک شاندار فری کک پر گول اسکور کر کے میچ 1-1 سے برابر کر دیا۔ اس گول پر پورا اسٹیڈیم جھوم اٹھا اور ایسا لگا جیسے ٹرمپ کی سیاسی مداخلت اور بالوگن کی موجودگی رنگ لے آئی ہے۔ لیکن یہ خوشی صرف 116 سیکنڈز تک ہی محدود رہی۔ 33 ویں منٹ میں چارلس ڈی کیٹیلیئر نے ایک بار پھر فلائنگ ہیڈر کے ذریعے گول کر کے بیلجئیم کو 2-1 کی برتری دلا دی۔

امریکی گول کیپر کی فاش غلطی اور شکست کا پروانہ

دوسرے ہاف میں امریکی کوچ مارسیلیو پوچیٹینو نے حکمت عملی تبدیل کی اور ٹیم کو مزید جارحانہ انداز میں اتارا۔ بالوگن نے گول کرنے کے کچھ اچھے مواقع بھی بنائے لیکن وہ بیلجئیم کے مضبوط دفاع کو پاش پاش کرنے میں ناکام رہے۔ میچ کا فیصلہ کن اور تباہ کن موڑ 57 ویں منٹ میں آیا جب امریکی گول کیپر میٹ فریز نے ڈی ایریا سے باہر آ کر گیند کو کلیئر کرنے کی کوشش کی لیکن وہ چوک گئے، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہانس واناکین نے دور سے خالی نیٹ میں گیند پھینک کر اسکور 3-1 کر دیا۔

میچ کے آخری لمحات میں جہاں امریکی کھلاڑی تھکن اور مایوسی کا شکار دکھائی دیے، وہیں متبادل کھلاڑی کے طور پر آنے والے رومیلو لوکاکو نے انجری ٹائم (93 ویں منٹ) میں ایک سنسنی خیز دوڑ لگائی اور چوتھا گول داغ کر امریکہ کی فی ورلڈ کپ 2026 مہم کا باقاعدہ خاتمہ کر دیا۔

ٹرمپ کارڈ بری طرح ناکام؛ سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی

ٹیگز: #امریکہ #بیلجئیم #ڈونلڈ ٹرمپ #فٹ بال #فیفا ورلڈ کپ 2026
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں