آزاد کشمیر حکومت کا کالعدم ایکشن کمیٹی پر سنگین الزامات: 15 ارب روپے کے نقصان کا دعویٰ
مظفرآباد (دوست نیوز، نمائندہ خصوصی) — آزاد جموں و کشمیر حکومت نے کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ تنظیم نے ریاست میں بدامنی، تشدد، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانے، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں، عوام کو اشتعال دلانے اورجمہوری عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی منظم کوشش کی ہے۔
مظفرآباد میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری اطلاعات آزاد کشمیر اور ترجمان آزاد کشمیر پولیس (ڈی آئی جی) نے متعدد سنگین دعوے اور تفصیلات پیش کیں۔
تشدد سرگرمیوں سے 15 ارب روپے کا معاشی نقصان
سیکریٹری اطلاعات نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران پرتشدد سرگرمیوں کے باعث ریاست کو مجموعی طور پر 15 ارب روپے سے زائد کا معاشی نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق عوامی حقوق کی تحریک کو شرپسند اور ذیلی قوم پرست عناصر نے ہائی جیک کر لیا، جبکہ عوام کو ہڑتالوں کے ذریعے خوفزدہ کر کے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اگر احتجاج ناکام ہوا تو ان کے بنیادی حقوق اور حکومتی مراعات ختم کر دی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر حکومت پہلے ہی عوام کو سستی بجلی اور آٹے کی مد میں بڑی سبسڈی فراہم کر رہی ہے، جبکہ کالعدم تنظیم انتخابات میں خلل ڈال کرجمہوری عمل کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ریاستی اداروں اور فوج کے خلاف اشتعال انگیز بیانات
سیکریٹری اطلاعات کے مطابق تنظیم کے رہنما اپنی تقاریر میں ریاستی اداروں اورپاک فوج کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیتے رہے، حتیٰ کہ فوجی جوانوں کو بغاوت پر اکسانے کی کوشش بھی کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم نے کبھی خود کو رجسٹرڈ نہیں کروایا اور ماضی کے پرتشدد واقعات کی بنیاد پر اسے کالعدم قرار دیا گیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کالعدم کمیٹی کے رہنما بیرون ملک موجود ملک دشمن عناصر سے رابطے میں ہیں اور تنظیم کے سرکردہ افراد کے خلاف مختلف نوعیت کے 79 مقدمات درج ہیں۔
تاجروں اور عوام نے ہڑتال مسترد کی
حکومتی ترجمان نے کہا کہ 5 جولائی کی ہڑتال کی کال کو تاجروں اور عوام نے مسترد کر دیا، کیونکہ کشمیری عوام بدامنی نہیں بلکہ معاشی استحکام چاہتے ہیں۔
ریاست مخالف اور فوج مخالف نعرے
پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا گیا کہ مختلف احتجاجی اجتماعات میں ریاست مخالف اور فوج مخالف نعرے لگائے گئے، جبکہ تقاریر میں آزاد کشمیر کی آئینی حیثیت اور پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے خلاف بھی اشتعال انگیز بیانیہ اختیار کیا گیا۔
پرانے واقعات کا حوالہ
سیکریٹری اطلاعات نے متعدد پرانے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ:
- مئی 2023 میں ڈڈیال میں اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر پر حملہ اور سرکاری گاڑی نذر آتش کی گئی۔
- اسلام گڑھ میں سب انسپکٹر عدنان قریشی کو شہید کیا گیا اور سرکاری اہلکاروں سے اسلحہ چھینا گیا۔
- نومبر 2024 میں اسلام آباد پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
- دھیرکوٹ میں پولیس اہلکاروں اور شہریوں کی ہلاکتوں سمیت متعدد پرتشدد واقعات پیش آئے۔
- سڑکیں بند کرنے کے لیے سینکڑوں درخت کاٹے گئے اور مختلف علاقوں میں اشیائے خوردونوش سے بھرے ٹرک لوٹے گئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر پرانی تصاویر اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ مواد استعمال کر کے حکومت مخالف پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، اس لیے عوام صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
راشن سے بھرے ٹرک روکے گئے، شناختی کارڈ چیک کر کے ہراساں کیا گیا
اس موقع پر ڈی آئی جی اور ترجمان آزاد کشمیر پولیس نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران متعدد مقامات پر راشن سے بھرے ٹرک روکے گئے، شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور سرکاری ملازمین کو شناختی کارڈ چیک کر کے ہراساں کیا گیا، جس کے باعث ٹرانسپورٹرز آزاد کشمیر آنے سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ راولاکوٹ میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے نتیجے میں تین اہلکار شہید ہوئے، جبکہ سی ایم ایچ راولاکوٹ میں مریضوں اور عملے کو یرغمال بنانے جیسے واقعات بھی پیش آئے۔
بروقت طبی امداد نہ ملنے سے تین خواتین جاں بحق
پولیس ترجمان کے مطابق ہجیرہ میں راستے بند ہونے کے باعث بروقت طبی امداد نہ ملنے سے تین خواتین جاں بحق ہوئیں، جن میں دو زچگی کے مریض اور ایک دل کی مریضہ شامل تھیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد پولیس کے دو اہلکاروں کو مختلف مقامات پر روک کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ایک اہلکار سے اسلحے کے زور پر اداروں کے خلاف ویڈیو بیان بھی ریکارڈ کرایا گیا
17 افراد سے مہلک ہتھیار برآمد
پولیس کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران 17 افراد کے قبضے سے مہلک ہتھیار اور کیلوں والے ڈنڈے برآمد کیے گئے، جبکہ 4 جولائی کو قانون نافذ کرنے والے اداروں پر فائرنگ سے متعلق سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا مواد بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا گیا۔
سیکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ، پانچ زخمی
ترجمان پولیس نے کہا کہ 5 جولائی کو ڈڈیال میں مسلح افراد کی فائرنگ سے پانچ سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے اور کالعدم تنظیم کی قیادت کے پاس اب قانون کے سامنے پیش ہونے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا
نوٹ: یہ خبر آزاد کشمیر حکومت، سیکریٹری اطلاعات اور آزاد کشمیر پولیس کی مشترکہ پریس کانفرنس میں پیش کیے گئے سرکاری مؤقف اور دعوؤں پر مبنی ہے۔ متعلقہ الزامات پر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف اس خبر میں شامل نہیں ہو سکا۔ اگر ان کا ردِعمل موصول ہوا تو اسے بھی مناسب اہمیت کے ساتھ شائع کیا جائے گا۔
