مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 27°C
بدھ، 28 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 419,270 PKR Bitcoin $80,817 USD/PKR 277.05 EUR/PKR 308.71 GBP/PKR 368.89 سونا/تولہ (عالمی) 419,270 PKR Bitcoin $80,817
قومی

ایچ ای سی کی بڑی اصلاحات: اعلیٰ تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا فیصلہ

📅 ✍️ ⏱ 5 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (دوست نیوز): ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے پالیسی ساز ادارے کا ایک اہم اجلاس چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر کی زیر صدارت اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں ملک کے اعلیٰ تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے، تعلیمی معیار کو بہتر کرنے، گورننس کو شفاف بنانے اور عالمی معیار کی اصلاحات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

تعلیمی نظام میں انقلابی تبدیلی کا عزم

اجلاس میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق سمیت کمیشن کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کو روایتی ڈگریوں سے آگے بڑھاتے ہوئے مہارت، تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام میں تبدیل کیا جائے گا۔

نئے ابھرتے ہوئے شعبوں میں ایکریڈیٹیشن کونسلز کا قیام

اجلاس میں مصنوعی ذہانت (AI)، قابلِ تجدید توانائی، میری ٹائم سائنسز اور مینٹل ہیلتھ و سائیکالوجی جیسے ابھرتے ہوئے شعبوں کے لیے نئی ایکریڈیٹیشن کونسلز کے قیام کی منظوری دی گئی۔ اس اقدام کا مقصد ان شعبوں میں تدریس اور نصاب کو عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔

آؤٹ کم بیسڈ ایجوکیشن (OBE) اور ڈیجیٹلائزیشن

شرکاء کو بتایا گیا کہ ایچ ای سی آؤٹ کم بیسڈ ایجوکیشن (OBE) پالیسی پر عملدرآمد تیز کر رہا ہے، جس کا مقصد طلبہ کو صرف نظریاتی تعلیم تک محدود رکھنے کے بجائے عملی مہارتوں اور روزگار کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈگریوں کی تصدیق کے نظام کو مکمل طور پر ڈیجیٹل اور پیپر لیس بنانے، ڈوئل اور جوائنٹ ڈگری پروگرامز کو فروغ دینے اور نیشنل اسکل کمپی ٹینسی ٹیسٹ کے ذریعے گریجویٹس کی عملی صلاحیتوں کا جائزہ لینے سے متعلق پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی داخلوں میں شفافیت

اجلاس میں ایم ایس، ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرامز میں داخلوں کے لیے تھرڈ پارٹی ٹیسٹنگ کی پالیسی پر بھی غور کیا گیا۔ ایچ ای سی کے مطابق یہ امتحانات ایجوکیشن ٹیسٹنگ کونسل (ETC) کے ذریعے منعقد کیے جائیں گے تاکہ ملک بھر میں اعلیٰ تعلیم میں داخلوں کے لیے شفاف اور یکساں معیار برقرار رکھا جا سکے۔

عالمی رینکنگ میں بہتری اور غیر قانونی یونیورسٹیوں پر تشویش

اس موقع پر پاکستانی جامعات کی عالمی رینکنگ میں بہتری کو بھی خوش آئند قرار دیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 2026 تک پاکستان کی 18 جامعات کیو ایس (QS) ورلڈ رینکنگ جبکہ 48 جامعات ٹائمز ہائر ایجوکیشن رینکنگ میں شامل ہو چکی ہیں، جو ملکی اعلیٰ تعلیم کے لیے مثبت پیش رفت ہے۔ اجلاس میں غیر قانونی یونیورسٹیوں اور غیر معیاری ذیلی کیمپسز کے قیام پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا۔ چیئرمین ایچ ای سی نے بتایا کہ پارلیمنٹ اور سینیٹ کو تجویز دی گئی ہے کہ ایچ ای سی کے این او سی کے بغیر کسی نئی یونیورسٹی کے قیام کی اجازت نہ دی جائے۔ کمیشن نے واضح کیا کہ مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے والے اداروں یا کیمپسز کی ڈگریاں تسلیم نہیں کی جائیں گی۔

ریسرچ اور انوویشن کو صنعت سے منسلک کرنے کی ضرورت

اجلاس میں یونیورسٹیوں کے آفس آف ریسرچ، انوویشن اینڈ کمرشلائزیشن (ORICs) کو مزید فعال بنانے پر بھی زور دیا گیا تاکہ جامعات میں ہونے والی تحقیق کو صنعت سے منسلک کر کے اسے معیشت اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کیا جا سکے۔

اعلیٰ تعلیم کا مستقبل: تحقیق، اختراع اور کردار سازی

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل اعلیٰ تعلیم کی ترقی سے وابستہ ہے، اس لیے جامعات کو صرف ڈگریاں جاری کرنے والے اداروں کے بجائے تحقیق، اختراع اور کردار سازی کے حقیقی مراکز بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایچ ای سی اعلیٰ تعلیمی نظام کو جدید، ڈیجیٹل اور عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کے لیے جامع اصلاحات پر عمل پیرا ہے تاکہ پاکستانی نوجوان عالمی سطح پر مسابقت کرنے کے قابل بن سکیں۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں