امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان تاریخی فریم ورک معاہدہ طے پا گیا

واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں امریکا کی ثالثی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان ایک سہ فریقی فریم ورک معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدہ چار روز تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں طے پایا، جسے خطے میں دیرپا امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ کا اعلان
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیل اور لبنان کے سفارتی نمائندوں کے ہمراہ معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ "یہ صرف آغاز ہے، ابھی بہت سا کام باقی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مستقل امن کی بنیاد رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
فوجی انخلا اور کنٹرول کی منتقلی
معاہدے کے تحت اسرائیل جنوبی لبنان کے دو منتخب علاقوں سے اپنی فوج مرحلہ وار واپس بلائے گا، جبکہ ان علاقوں کا کنٹرول لبنانی فوج کے حوالے کر دیا جائے گا تاکہ وہاں ریاستی سکیورٹی ادارے امن و امان برقرار رکھ سکیں۔
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوج دریائے لیتانی کے شمال اور جنوب میں واقع دو مقامات سے انخلا کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ فوجی انخلا مرحلہ وار ہوگا اور اسرائیل اپنی سکیورٹی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات جاری رکھے گا۔
امریکی قیادت میں رابطہ گروپ کا قیام
معاہدے کے مطابق ایک امریکی قیادت میں فوجی رابطہ و رابطہ کاری گروپ قائم کیا جائے گا جو معاہدے پر عملدرآمد، سکیورٹی انتظامات اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کی نگرانی کرے گا۔
حزب اللہ کا غیر مسلح ہونا: پیچیدہ مگر اہم شق
فریم ورک میں لبنان میں موجود غیر ریاستی مسلح گروہوں، بالخصوص حزب اللہ، کے مرحلہ وار غیر مسلح ہونے کا روڈ میپ بھی شامل ہے، جسے معاہدے کا سب سے حساس اور پیچیدہ حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم حزب اللہ اس معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور تنظیم نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اسے زبردستی غیر مسلح کرنے کی کوشش کی گئی تو ملک میں شدید سیاسی اور سکیورٹی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
لبنان کے لیے انسانی امداد
امریکا نے معاہدے کے ساتھ لبنان کے لیے 100 ملین ڈالر کی انسانی امداد فراہم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے تاکہ جنگ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور انسانی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
تجزیہ کاروں کی رائے اور مستقبل کے چیلنجز
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان اعتماد سازی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تمام فریق اس پر کس حد تک عمل کرتے ہیں، خصوصاً حزب اللہ کے معاملے میں پیش آنے والے چیلنجز کو کس طرح حل کیا جاتا ہے۔
عالمی امن پر اثرات
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاہدے پر مؤثر انداز میں عملدرآمد ہوا تو یہ نہ صرف اسرائیل اور لبنان کے درمیان کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے بھی ایک نئی بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
