پاکستان اور ایران امن اور ترقی کی نئی راہیں کھولیں گے، مشترکہ بیان

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان اور ایران کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے، دونوں ممالک نے مشترکہ مفاہمتی یادداشت کے ذریعے ترقی اور خوشحالی کی نئی راہیں کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے دورۂ پاکستان کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف اور صدر مسعود پزشکیان نے دوطرفہ اور وفود کی سطح پر ملاقات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کیا۔
پاکستان کے بہترین کردار کو سراہا
ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے مذاکراتی عمل میں پاکستان کے بہترین کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ امن، ترقی اور خوشحالی کے لئے پاکستان کے اہم کردار کے معترف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان پر اعتماد کی بدولت ممکن ہوئے ہیں۔ صدر مسعود پزشکیان نے چیلنجز پر قابو پاتے ہوئے خوشحال مشترکہ مستقبل کے لئے آگے بڑھنے پر زور دیا اور کہا کہ خطے میں امن و سلامتی اور پائیدار ترقی علاقائی روابط کے فروغ اور تعمیری بات چیت سے ہی ممکن ہے۔
وزیراعظم کا ایران سے قریبی تعلقات کا اعادہ
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فارسی شعر کے ذریعے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں ہاتھ تھامے۔ صدر مسعود پزشکیان اور ان کے وفد کے دورۂ پاکستان پر بہت خوشی کا اظہار کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے ملاقات کو نہایت نتیجہ خیز اور انتہائی خوشگوار ماحول میں ہونے والی گفتگو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملاقات ایک خاندانی ملاپ کی مانند تھی، جہاں بھائی آپس میں مکمل کھلے دل اور عزم کے ساتھ بات کر رہے تھے کہ ہم اپنے برادرانہ تعلقات کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط بنائیں گے۔ انہوں نے صدر مسعود پزشکیان کو عظیم ملک کا عظیم رہنما قرار دیا اور بطور ڈاکٹر بھی ان کی انسانیت کے لیے خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے پر خوشی کا اظہار
وزیراعظم نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بطور ثالث پاکستان نے امن عمل کے لئے خلوص نیت سے کاوشیں کی ہیں۔ برگن سٹاک میں ہونے والے تکنیکی مذاکرات کو بھی بہت اہمیت کا حامل قرار دیا۔ انہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت معاہدے کی شکل اختیار کرے گی اور ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔
عناصر کے خلاف آہنی دیوار
وزیراعظم نے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی دور اندیش قیادت کو سراہا اور بحران کے دوران ایرانی عوام کے مثالی جرات اور اتحاد کو بھی سراہا۔ جنگ میں ہزاروں قیمتی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے، انہوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کو بہت بڑا نقصان قرار دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ آئندہ ہفتے تہران کا دورہ کریں گے تاکہ مرحوم سپریم لیڈر کو خراجِ عقیدت پیش کر سکیں اور ایرانی عوام کے ساتھ پاکستان کی یکجہتی کا اعادہ کر سکیں۔ وزیرِ اعظم نے دنیا میں ایسے عناصر کی کمی نہ ہونے کا ذکر کیا جو اس جنگ بندی سے شدید مایوس ہیں، جو دیرپا امن اور خوشحالی کا سبب بن سکتی ہے، اور جو غیر ضروری شکوک و شبہات اور انتشار پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ مل کر ان عناصر کے خلاف آہنی دیوار بن کر کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ہزاروں سال پرانی تہذیب کے رشتے
وزیراعظم نے مشکل وقت میں ایران کی حکومت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ایران ہمسایہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہزاروں سال کی تہذیب سے بھی جڑے ہیں۔ ایران کی کامیابی کو اپنی کامیابی اور نقصان کو اپنا نقصان سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی سمیت علاقائی رہنماؤں کی جانب سے امن کی کوششوں کی حمایت کو بھی سراہا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر کی خدمات کو سراہا

وزیراعظم نے مذاکراتی عمل میں فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر کی انتھک محنت اور لگن کو سراہا اور نائب وزیراعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی شاندار خدمات کو بھی اجاگر کیا۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور ایران نے ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے اپنی گفتگو کا اختتام "پاکستان-ایران دوستی زندہ باد” کے نعرے پر کیا۔
پاکستان، ایران کا برادر اسلامی ملک
ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے پاکستان کو محض ہمسایہ ملک ہی نہیں بلکہ برادر اسلامی ملک قرار دیا جو ایران کے ساتھ گہرے تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں میں بندھا ہوا ہے۔ انہوں نے علامہ محمد اقبال کے اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلم اُمہ کے اتحاد کا پیغام آج بھی اتنا ہی اہم اور مؤثر ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی تعلقات منفرد نوعیت کے حامل ہیں، دونوں ممالک یک جان دو قالب ہیں اور مشترکہ مستقبل اور منزل کے شراکت دار ہیں۔ صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ پاکستان صرف ہمارا ہمسایہ ہی نہیں، ہمارا بھائی اور عزیز دوست ہے۔ اسلام آباد اور تہران کے درمیان تعلقات قریبی اعتماد اور باہمی احترام پر مبنی ہیں۔
مذاکراتی عمل میں پاکستان کا کردار قابل تحسین
انہوں نے ماضی قریب میں ہونے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات نے دونوں ممالک کے قریبی رشتے کو نئی جہت دی ہے۔ انہوں نے مذاکراتی عمل میں پاکستان کے بہترین کردار کو سراہا اور امن، ترقی اور خوشحالی کے لئے پاکستان کے اہم کردار کے معترف ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط پاکستان پر اعتماد کی بدولت ممکن ہوئے ہیں۔ انہوں نے شاندار استقبال اور بھرپور میزبانی پر پاکستانی حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا اور دورۂ پاکستان کے لئے دعوت دینے پر وزیر اعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک صرف ایک دوسرے کے پڑوسی ہی نہیں بلکہ اپنی خواہشات، خدشات اور امیدوں میں ایک مشترکہ تقدیر کے شریک ہیں۔
خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا
صدر مسعود پزشکیان نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے مخلصانہ اور ذمہ دارانہ کردار کو سراہا اور حالیہ تنازع کے دوران ایران کے ساتھ کھڑے ہونے پر وزیر اعظم محمد شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری، آرمی چیف جنرل عاصم منیر، پاکستانی پارلیمان کے اراکین اور عوامِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کوششوں کے بغیر ہم آج یہاں موجود نہ ہوتے۔
تعمیری ملاقاتیں اور مشترکہ مستقبل
صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ان کی وزیر اعظم محمد شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے تعمیری ملاقاتیں ہوئیں، جن میں دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا۔ انہوں نے چیلنجز پر قابو پاتے ہوئے خوشحال مشترکہ مستقبل کے لئے آگے بڑھنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ خطے میں امن و سلامتی اور پائیدار ترقی علاقائی روابط کے فروغ اور تعمیری بات چیت سے ہی ممکن ہے۔ امن عمل کے لئے قطر، ترکیہ، سعودی عرب، مصر کی قیادت اور دوست ممالک کے شکر گزار ہیں، اور وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر نے ثالثی عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جنگ کے آغاز سے مفاہمتی یادداشت تک ہر مرحلے میں انتھک مخلصانہ کاوشیں کیں۔
باہمی احترام اور مکالمے کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی صرف باہمی احترام، مکالمے اور افہام و تفہیم کے ذریعے ہی ممکن ہے، جبکہ دوستی اور تعاون کی بنیاد پر ایک مضبوط علاقائی سلامتی کے نظام کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے تجارت، اقتصادی تعاون اور عوامی روابط کو مزید فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کی مضبوط سیاسی قیادت پاکستان اور ایران کے تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جائے گی۔
میزائل پروگرام پر بات چیت کی خبروں کی تردید
سوال و جواب کے سیشن کے دوران دونوں رہنماؤں نے ان خبروں کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا جن میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر بھی بات چیت ہوئی ہے۔ صدر پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران کی میزائل صلاحیت صرف قومی دفاع کے لیے ہے اور یہ کبھی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں رہی۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی وضاحت کی کہ بیلسٹک میزائل نہ تو زیر بحث آئے اور نہ ہی انہیں معاہدے میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ میں بلا خوفِ تردید یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بیلسٹک میزائل کبھی بھی بات چیت کا موضوع نہیں رہے۔ ان کا مفاہمتی یادداشت میں کوئی ذکر نہیں اور نہ ہی وہ مذاکرات کا حصہ تھے۔ وزیر اعظم نے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے پھیلائی جانے والی غلط معلومات سے خبردار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور ایران خطے کے امن و استحکام اور امن اقدام کی کامیابی کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔
