آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ایران کے صدر سے علاقائی امن پر بات چیت

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزیشکیان سے ملاقات کی جس میں علاقائی پیشرفت اور امن اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایرانی صدر نے مکالمے، کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کے فروغ میں پاکستان کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو سراہا۔ انہوں نے عالمی جغرافیائی سیاسی چیلنجز کے اس دور میں تنازعات کے پرامن حل اور علاقائی اسٹیک ہولڈرز کے درمیان تفہیم کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کی مسلسل کوششوں کو تسلیم کیا۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقین نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور باہمی دلچسپی کے معاملات پر قریبی مشاورت برقرار رکھنے کے اپنے عزم کی تجدید کی، جس کا مشترکہ مقصد خطے میں امن، خوشحالی اور استحکام کو آگے بڑھانا ہے۔
اس ملاقات کے تناظر میں، پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک نے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے مشترکہ ذمہ داریوں کا اعتراف کیا ہے۔ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا تھا، جس میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا تھا۔ اس دورے کے دوران بھی دونوں ممالک کے درمیان علاقائی امن اور اقتصادی تعاون کے حوالے سے اہم بات چیت ہوئی تھی۔
آرمی چیف کی جانب سے علاقائی امن کے حوالے سے پاکستان کے موقف کا اعادہ اس بات کا غماز ہے کہ پاکستان خطے میں تناؤ کو کم کرنے اور سفارتی حل کو فروغ دینے کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ کوششیں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدے میں پاکستان کی ثالثی کی حالیہ مثالوں سے بھی ظاہر ہوتی ہیں۔
خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کا کردار دنیا بھر میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔بی بی سی اردو کے مطابق، پاکستان نے ہمیشہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے اصولوں پر زور دیا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔ اس سلسلے میں، آبنائے ہرمز سے آئل ٹینکرز کی آمدورفت جیسے اہم علاقائی معاملات پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی تاکہ خطے میں تجارتی اور اقتصادی سرگرمیوں کو محفوظ اور مستحکم رکھا جا سکے۔
