امریکی نائب صدر کی آرمی چیف عاصم منیر کی قیادت کی غیر معمولی تعریف

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام اور امریکہ و ایران کے مابین کشیدگی کو کم کرنے کے لیے پاکستان کی تاریخی مصالحتی کوششوں کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فوسز فیلڈ مارشلعاصم منیر کی بصیرت اور مدبرانہ قیادت کے معترف ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کے مقام برگن اسٹاک (Burgenstock) میں ہونے والے امریکہ ایران اعلیٰ سطحی مذاکرات کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی مدبرانہ قیادت اور سفارتی بصیرت کو غیر معمولی الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں پاکستانی وفد سے ملاقات کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کھل کر اعتراف کیا کہ پاکستان کی سول و عسکری قیادت کی انتھک کوششوں کے بغیر امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی معاہدے پر پیش رفت ممکن ہی نہ تھی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کلیدی کردار کی تعریف کرتے ہوئے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ انہوں نے پچھلے تین مہینوں میں شاید فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ بات چیت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فیلڈ مارشل کی بصیرت اور مدبرانہ قیادت کے بغیر ہم اس اہم موڑ تک نہیں پہنچ سکتے تھے، وہ بلاشبہ ایک عظیم فوجی رہنما ہیں، لیکن ان کے خیال میں انہوں نے خود کو ایک بہترین اور اعلیٰ پائے کے سفارتکار کے طور پر بھی ثابت کیا ہے۔
اسلام آباد کی سول و عسکری قیادت کو امریکہ اور ایران کے مابین مزاکرات کرانے پر نہ صرف امریکہ، بلکہ پوری دنیا کی جانب سے زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ (UN)، یورپی یونین اور مشرقِ وسطیٰ کے برادر اسلامی ممالک سمیت عالمی برادری نے واشنگٹن اور تہران کے مابین برف پگھلانے پر اسلام آباد کے اس مخلصانہ اور مدبرانہ کردار کو دل کھول کر سراہا ہے۔
اس تاریخی سفارتکاری کے ذریعے پاکستان نے نہ صرف خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچایا، بلکہ عالمی توانائی کی سپلائی لائنز کو بحال رکھ کر پوری دنیا کو ایک ہولناک معاشی بحران اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تباہ کن اضافے سے بھی محفوظ کر لیا۔ اگر پاکستان بروقت یہ مصالحتی کردار ادا نہ کرتا تو بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی تجارتی نظام مفلوج ہو کر رہ جاتا۔
ایسے نازک موڑ پر جب دنیا بلاکس میں تقسیم ہو رہی تھی، پاکستان نے ایک بار پھر خود کو عالمی امن کا ایک غیر جانبدار، قابلِ اعتماد اور ناگزیر ضامن ثابت کیا، اور اس تاریخی مصالحت نے بین الاقوامی برادری میں پاکستان کے تزویراتی وقار اور سفارتی قد کاٹھ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
