عراق میں غیر قانونی داخلے پر پاکستانیوں کیلئے بھاری جرمانے کا اعلان

بغداد۔ عراق میں مقیم اور روزگار کے سلسلے میں وہاں جانے کے خواہشمند پاکستانی شہریوں کے لیے ایک اہم پیشرفت میں، عراقی حکومت نے ملک میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے غیر ملکیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت، جو بھی پاکستانی شہری عراق میں بغیر انٹری اسٹیمپ یا غیر مجاز سرحدی راستوں (جنہیں عام طور پر ‘ڈنکی’ کہا جاتا ہے) کے ذریعے داخل ہوا ہے، اسے ملک سے روانگی کے لیے ایگزٹ پرمٹ حاصل کرنے پر تقریباً 30 لاکھ عراقی دینار، یعنی تقریباً 2,000 امریکی ڈالر، جرمانہ ادا کرنا ہوگا۔
اس نئے قانون کے نفاذ کے بعد ایسے افراد اس وقت تک عراق سے قانونی طور پر روانہ نہیں ہو سکیں گے جب تک وہ مقررہ جرمانہ ادا نہ کر دیں۔ اس صورتحال کے باعث انہیں شدید مالی مشکلات، قانونی پیچیدگیوں، حراست اور دیگر سفری مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ قدم خطے میں غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام کے لیے اٹھائے جانے والے وسیع تر اقدامات کا حصہ ہے، جس پر اکثر وزیراعظم اور سعودی ولی عہد کے مابین رابطوں میں بھی تبادلہ خیال کیا جاتا رہا ہے۔
پاکستانی شہریوں کے لیے اہم ہدایات
اس سنگین صورتحال کے پیش نظر، تمام پاکستانی شہریوں کو سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ عراق کا سفر کرتے وقت صرف قانونی طریقہ کار اپنائیں اور درج ذیل احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کریں:
- قانونی داخلہ یقینی بنائیں: عراق میں ہمیشہ درست ویزا اور نامزد امیگریشن پوائنٹس کے ذریعے ہی داخل ہوں۔ غیر قانونی راستے اختیار کرنا آپ کو سنگین مصیبت میں ڈال سکتا ہے۔
- جعلی ایجنٹس سے ہوشیار رہیں: ایسے ایجنٹس یا افراد پر ہرگز اعتبار نہ کریں جو غیر قانونی داخلے، ملازمت کے جھوٹے وعدوں، یا غیر مجاز سرحدی راستوں کے استعمال کی ترغیب دیں۔ یہ لوگ اکثر انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کا حصہ ہوتے ہیں۔
- دستاویزات محفوظ رکھیں: اپنا پاسپورٹ یا دیگر ذاتی دستاویزات کسی بھی غیر مجاز ایجنٹ یا آجر کے حوالے کرنے سے مکمل گریز کریں۔ دستاویزات کا غلط استعمال آپ کے خلاف کیا جا سکتا ہے۔
- آگاہی پھیلائیں: اس اہم اطلاع کو اپنے عزیز و اقارب، دوستوں، مزدور بھائیوں، اور دیگر پاکستانی شہریوں تک ضرور پہنچائیں تاکہ وہ اس قسم کی پریشانیوں، قانونی کارروائی، حراست اور دیگر مشکلات سے محفوظ رہ سکیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے بھی شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف پالیسیاں، جیسے نئی نجی حج پالیسی، تشکیل دی جاتی ہیں تاکہ سفر کو محفوظ بنایا جا سکے۔
یاد رکھیں کہ عراق میں غیر قانونی داخلہ نہ صرف بڑے مالی نقصان کا سبب بن سکتا ہے بلکہ یہ آپ کے مستقبل کے سفر، ملازمت کے مواقع، ویزا اور امیگریشن معاملات پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ متعلقہ قوانین اور سفری ہدایات کے بارے میں مزید معلومات بین الاقوامی خبر رساں اداروں سے بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔ تمام پاکستانی شہریوں سے گزارش ہے کہ وہ محتاط رہیں، عراقی قوانین کا مکمل احترام کریں، اور ہمیشہ قانونی و مجاز راستوں سے ہی سفر کو ترجیح دیں۔
