وفاقی کابینہ نے نئی نجی حج پالیسی 2027-2030 کی منظوری دے دی

اسلام آباد (اے پی پی)۔ وفاقی کابینہ نے وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کی جانب سے پیش کردہ پرائیویٹ حج پالیسی برائے 2027 تا 2030 کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد نجی حج انتظامات کو جدید، شفاف اور مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام کے تحت استوار کرنا ہے۔ یہ پالیسی پاکستان میں نجی شعبے کے ذریعے حج آپریشنز میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔
وزارتِ مذہبی امور کے ترجمان کے مطابق، نئی پالیسی کے تحت پرائیویٹ حج کے لیے روایتی کوٹہ سسٹم کو ختم کر کے کارکردگی اور قواعد و ضوابط کی پابندی پر مبنی ایک نیا نظام نافذ کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد حج آپریٹرز کے درمیان صحت مند مقابلے کو فروغ دینا اور عازمین کو بہترین خدمات کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
پالیسی کی نمایاں خصوصیات
نئی پالیسی کے تحت تمام موجودہ حج آپریٹرز (HGOs) کی دوبارہ جانچ پڑتال لازمی قرار دی گئی ہے، جبکہ ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے آزاد ماہرین کے ذریعے درجہ بندی بھی کی جائے گی۔ اس عمل سے صرف قابل اور بہترین ٹریک ریکارڈ رکھنے والی کمپنیوں کو کام جاری رکھنے کی اجازت ملے گی۔
ترجمان نے بتایا کہ پرائیویٹ حج کوٹہ کی تقسیم ‘پہلے آئیں، پہلے پائیں’ کی بنیاد پر کی جائے گی۔ ہر حج آپریٹر کے لیے کم از کم دو ہزار حجاج کی بکنگ کرنا لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ حد سے کم بکنگ حاصل کرنے والی کمپنیوں کو غیر فعال قرار دے دیا جائے گا۔ اس شرط کا مقصد صرف سنجیدہ اور مالی طور پر مستحکم کمپنیوں کو میدان میں رکھنا ہے۔
پالیسی کے مطابق، ناکام قرار دی جانے والی کمپنیوں کی نصف سیکیورٹی ضبط کر لی جائے گی اور ان کے رجسٹرڈ حجاج کو کسی قسم کی پریشانی سے بچانے کے لیے خودکار نظام کے ذریعے دیگر اہل کمپنیوں میں منتقل کر دیا جائے گا۔ حج کمپنیوں کے لائسنس اب تین سال کی مدت کے لیے جاری کیے جائیں گے۔ مزید برآں، حج کوٹہ کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد ہوگی اور کارٹل سازی یا اجارہ داری قائم کرنے کے رجحانات کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مکمل ڈیجیٹلائزیشن اور شفافیت
نئی پالیسی کا ایک اہم ستون پرائیویٹ حج آپریشنز کی مکمل ڈیجیٹلائزیشن ہے۔ تمام حج بکنگز صرف پرائیویٹ حج مینجمنٹ پورٹل (PHMP) کے ذریعے کی جا سکیں گی۔ یہ پورٹل نادرا اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نظام سے منسلک ہوگا تاکہ ہر قسم کی معلومات کی تصدیق اور مالیاتی امور میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔ مالی سال کے اختتام اور نئے نظام کے نفاذ کے ساتھ مالیاتی شفافیت پر زور دیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے مزید واضح کیا کہ دستی بکنگ اور نقد لین دین پر مکمل پابندی عائد ہوگی۔ حج کمپنیاں حجاج کے فنڈز اپنے پاس نہیں رکھ سکیں گی، بلکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سرکاری اکاؤنٹ کے ذریعے تمام مالی معاملات انجام پائیں گے۔ سعودی عرب میں خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو ادائیگیاں بھی براہِ راست اسی سرکاری چینل کے ذریعے کی جائیں گی۔
وزارتِ مذہبی امور کے مطابق، اس نئی پالیسی سے نہ صرف شفافیت اور احتساب کو فروغ ملے گا بلکہ حجاج کا مالی اور انتظامی تحفظ بھی یقینی ہوگا۔ یہ اصلاحات پاکستان کے پرائیویٹ حج نظام کو سعودی وژن 2030 کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مدد دیں گی، جس کا اعلان سعودی وزارتِ حج و عمرہ نے بھی کیا ہے۔ اس حوالے سے وفاقی کابینہ کے دیگر فیصلوں، جیسے کابینہ کمیٹی کی جانب سے پی این ایس سی بورڈ میں تقرریوں کی منظوری، سے حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کی عکاسی ہوتی ہے۔
