پاکستان کی سفارت کاری کا نیا باب: ایران۔امریکہ امن معاہدہ اور ایک ابھرتی ہوئی عالمی قوت

تحریر: عابد محمود مغل
بین الاقوامی سیاست میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو کسی ملک کی تاریخ کا رخ بدل دیتے ہیں۔ یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب ریاستیں صرف اپنے مسائل سے نمٹنے تک محدود نہیں رہتیں بلکہ عالمی امن، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی سفارت کاری میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ 2026 میں ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی مفاہمتی پیش رفت اور اس میں پاکستان کے نمایاں کردار کو اسی تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
چند سال پہلے تک پاکستان کو دنیا اکثر معاشی مشکلات، سیاسی عدم استحکام، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور آئی ایم ایف پروگراموں کے تناظر میں دیکھتی تھی۔ عالمی میڈیا میں پاکستان کا ذکر زیادہ تر اندرونی چیلنجز کے حوالے سے ہوتا تھا۔ لیکن حالیہ مہینوں میں منظر نامہ تبدیل ہوا ہے۔ پاکستان نے نہ صرف اپنی سلامتی اور دفاعی صلاحیت کا مظاہرہ کیا بلکہ سفارتی میدان میں بھی اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلایا۔
یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے معاشی دباؤ، سیاسی کشیدگی اور داخلی چیلنجز کا سامنا کر رہا تھا۔ ایسے ماحول میں کسی بھی ملک کی ترجیح عموماً اپنے داخلی مسائل ہوتے ہیں۔ مگر پاکستان نے ثابت کیا کہ ایک ذمہ دار ریاست بیک وقت داخلی استحکام اور بین الاقوامی ذمہ داری دونوں کو نبھا سکتی ہے۔
حالیہ مہینوں میں پاکستان نے جس انداز میں علاقائی اور عالمی معاملات میں کردار ادا کیا، اس نے عالمی طاقتوں کو بھی پاکستان کی طرف دوبارہ متوجہ کیا۔ خصوصاً ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے ماحول میں پاکستان نے ایک ایسے ثالث کی حیثیت اختیار کی جو دونوں فریقوں کے لیے قابلِ قبول تھا۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی "اسلام آباد مفاہمتی یادداشت” میں پاکستان نے ثالث اور گواہ کا کردار ادا کیا۔ اس معاہدے میں جنگ بندی، بحری راستوں کی بحالی اور مستقبل کے مذاکرات کا خاکہ شامل ہے۔ معاہدے پر پاکستان کے بطور ثالث دستخط بھی کیے گئے، جو سفارتی اعتبار سے ایک غیرمعمولی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
یہ کامیابی اچانک حاصل نہیں ہوئی۔ اس کے پیچھے مہینوں کی سفارت کاری، درجنوں ملاقاتیں، متعدد ممالک کے دورے، مسلسل رابطے اور انتہائی پیچیدہ مذاکراتی عمل شامل تھا۔ عالمی ذرائع کے مطابق پاکستانی ثالثوں نے ہفتوں تک مختلف فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا اور کئی ایسے مواقع آئے جب مذاکرات تعطل کا شکار ہونے کے قریب پہنچ گئے تھے۔
اس پورے عمل میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت نے ایک ٹیم کے طور پر کام کیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے علاقائی سلامتی کے تناظر میں مختلف ممالک کے ساتھ رابطوں کو فعال رکھا۔ مشرق وسطیٰ کے حالات، ایران کے ساتھ تعلقات، خلیجی ممالک کے تحفظات اور امریکہ کے مفادات کے درمیان توازن قائم رکھنا ایک غیرمعمولی سفارتی چیلنج تھا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے ایک ایسا مؤقف اختیار کیا جو نہ صرف پاکستان کے قومی مفاد کے مطابق تھا بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی سودمند ثابت ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے ایک طرف اپنے برادر ممالک کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مضبوط کیا اور دوسری طرف کسی علاقائی جنگ کا براہ راست حصہ بننے سے گریز کیا۔
یہاں پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم پہلو سامنے آتا ہے۔ ماضی میں اکثر یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ پاکستان بڑی طاقتوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے میں مشکلات کا شکار رہتا ہے۔ لیکن موجودہ حالات میں پاکستان نے بیک وقت امریکہ، ایران، سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور دیگر ممالک کے ساتھ رابطے برقرار رکھ کر ایک متوازن سفارت کاری کا مظاہرہ کیا۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کردار بھی اس پورے عمل میں نمایاں رہا۔ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق متعدد اہم اعلانات اور سفارتی پیش رفت کا اعلان براہ راست وزیراعظم پاکستان کی جانب سے کیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ امن عمل کے مختلف مراحل میں پاکستان کی سیاسی قیادت مسلسل متحرک رہی۔
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سفارتی محاذ پر اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے تسلسل، علاقائی ممالک کے ساتھ روابط اور عالمی فورمز پر پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرنے میں ان کی کاوشیں نمایاں رہیں۔
اسی طرح وزیر داخلہ محسن نقوی بھی حکومتی ٹیم کا حصہ رہے اور مختلف سطحوں پر رابطہ کاری کے عمل میں شریک رہے۔ اگرچہ بین الاقوامی سفارت کاری میں اکثر توجہ صرف چند نمایاں شخصیات پر مرکوز ہو جاتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسی کامیابیاں ہمیشہ ایک منظم ٹیم ورک کا نتیجہ ہوتی ہیں۔
پاکستان کے لیے اس کامیابی کا ایک اور اہم پہلو بھارت کے ساتھ سفارتی مقابلہ بھی ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے بھارت خود کو خطے کی واحد ابھرتی ہوئی طاقت کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ لیکن حالیہ پیش رفت نے یہ ثابت کیا کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان بھی ایک ایسا ملک ہے جو نہ صرف عسکری لحاظ سے اہم ہے بلکہ سفارتی میدان میں بھی مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
خاص طور پر حالیہ علاقائی بحرانوں کے دوران پاکستان نے جس تدبر، تحمل اور سفارتی حکمت عملی کا مظاہرہ کیا، اس نے عالمی برادری کو پاکستان کے بارے میں اپنا نقطۂ نظر ازسرنو مرتب کرنے پر مجبور کیا۔
اس سارے عمل میں ایک اہم سبق بھی پوشیدہ ہے۔ عالمی سیاست میں صرف فوجی طاقت یا معاشی قوت ہی فیصلہ کن نہیں ہوتی بلکہ اعتماد، ساکھ اور مؤثر سفارت کاری بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے۔ پاکستان نے یہ اعتماد اس لیے حاصل کیا کیونکہ مختلف فریق اسے ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھتے ہیں جو مشکل حالات میں بھی مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تاہم پاکستان کے لیے اصل چیلنج اب شروع ہوتا ہے۔ ایک کامیاب ثالثی کسی بھی ملک کو عالمی سطح پر اہمیت تو دلا سکتی ہے، مگر اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل کارکردگی درکار ہوتی ہے۔ اگر پاکستان اس سفارتی کامیابی کو معاشی استحکام، علاقائی تجارت، سرمایہ کاری اور عالمی شراکت داری میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ ملک کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
آج دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں تنازعات کے حل کے لیے نئے ثالثوں اور نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان اسی توازن، تدبر اور مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھتا رہا تو مستقبل میں وہ صرف جنوبی ایشیا ہی نہیں بلکہ وسیع تر مسلم دنیا اور عالمی سفارت کاری میں بھی ایک مؤثر اور معتبر کردار ادا کر سکتا ہے۔
ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمتی پیش رفت کا حتمی نتیجہ ابھی سامنے آنا باقی ہے، لیکن ایک حقیقت واضح ہے: پاکستان نے خود کو ایک ایسے ملک کے طور پر منوایا ہے جو جنگ کے بجائے امن، تصادم کے بجائے مذاکرات اور کشیدگی کے بجائے مفاہمت کا راستہ اختیار کرتا ہے۔
شاید یہی کسی بھی ریاست کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہوتی ہے۔
