فٹ ویئر انڈسٹری کے فروغ کیلئے بجٹ تجاویز وزیر مملکت کو پیش

اسلام آباد: پاکستان فٹ ویئر مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PFMA) کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ایس ایم تنویر کی قیادت میں وزیرِ مملکت برائے خزانہ و ریونیو بلال اظہر کیانی سے فنانس ڈویژن میں ملاقات کی۔ ملاقات میں صنعتی شعبے سے متعلق مسائل اور وسیع تر معاشی پالیسی فریم ورک پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
صنعتی مسائل اور بجٹ تجاویز پر تبادلہ خیال
ملاقات کے دوران وفد نے ملک کی معیشت میں فٹ ویئر انڈسٹری کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا، خاص طور پر مینوفیکچرنگ، برآمدات، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور ٹیکس تعمیل (کمپلائنس) کے حوالے سے شعبے کی خدمات پر روشنی ڈالی۔ وفد کے نمائندوں نے آئندہ وفاقی بجٹ 27-2026ء کے تناظر میں صنعتی ترقی کے فروغ، مسابقت بڑھانے اور کاروباری سرگرمیوں کو آسان بنانے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اپنی تجاویز اور آراء بھی پیش کیں۔ ایسوسی ایشن نے حکومت پر زور دیا کہ کمرشل درآمد کنندگان پر امتیازی ٹیکس ختم کرکے مساوی نظام نافذ کیا جائے تاکہ مقامی صنعت کو پھلنے پھولنے کا موقع مل سکے۔
حکومتی یقین دہانی اور عزم کا اعادہ
وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے معاشی ترقی، برآمدات کے فروغ اور روزگار کی فراہمی میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کے اہم کردار کا اعتراف کیا۔ انہوں نے وفد کی جانب سے دی جانے والی تعمیری تجاویز کو سراہا اور یقین دہانی کرائی کہ ان کی سفارشات پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے متعلقہ شراکت داروں (اسٹیک ہولڈرز) کے ساتھ مسلسل مشاورت کے ذریعے ملک میں ایک سازگار اور کاروبار دوست ماحول برقرار رکھنے کے حکومتی عزم کا اعادہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسیوں کا محور کاروباری برادری کو سہولت فراہم کرنا ہے، جیسا کہ حال ہی میں کراچی پورٹ ٹرسٹ کی جانب سے 5 فیصد ٹیرف اضافہ منجمد کرنے کا فیصلہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے معاشی استحکام، صنعتی مسابقت اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے مسلسل بات چیت اور باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ مالیاتی پالیسیاں قومی ترقی کے اہداف کو مؤثر طریقے سے پورا کریں۔
