کمرشل درآمد کنندگان پر امتیازی ٹیکس ختم کرکے مساوی نظام نافذ کیا جائے، ایف پی سی سی آئی

کراچی، 17 جون 2026: پاکستان کی کاروباری برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صنعتی خام مال درآمد کرنے والے کمرشل درآمد کنندگان کے خلاف امتیازی ٹیکس پالیسیوں کا خاتمہ کرتے ہوئے انہیں صنعتی مینوفیکچررز کے برابر مواقع فراہم کیے جائیں، تاکہ قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان سے بچایا جا سکے۔
یہ مطالبہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) کے صدر عاطف اکرام شیخ نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام کے تحت کمرشل درآمد کنندگان پر 6 سے 9 فیصد تک اضافی ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے، جس سے ان کی مسابقتی صلاحیت بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور ان پر انحصار کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کے لیے مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
غیر منصفانہ کاروباری ماحول اور قومی خزانے کو نقصان
عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ صنعتی مینوفیکچررز کو اپنی درآمدات کی تجارت صرف 3 فیصد اضافی ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) کے ساتھ کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے، جبکہ کمرشل درآمد کنندگان پر کہیں زیادہ ٹیکس نافذ ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف منصفانہ کاروباری ماحول کے خلاف ہے بلکہ جعلی انوائسز، صنعتی لائسنسوں کے غلط استعمال اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا سبب بھی بن رہی ہے۔ اس حوالے سے وفاقی وزراء اور کاروباری برادری کے درمیان مذاکرات اہم ہیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ مجوزہ فنانس بل میں صنعتی درآمد کنندگان کو اپنی درآمدات کی تجارت کی اجازت دینا ایک ایسی سرگرمی کو قانونی جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے جو دراصل صنعتی پیداوار کے دائرہ کار سے باہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی سے کمرشل درآمد کنندگان کی حوصلہ شکنی ہوگی اور غیر دستاویزی معیشت کو فروغ ملے گا۔
ایس ایم ایز اور کاٹیج انڈسٹری پر اثرات
انہوں نے مزید کہا کہ کاٹیج انڈسٹری اور ایس ایم ایز اپنی خام مال کی ضروریات کے لیے مکمل طور پر کمرشل درآمد کنندگان پر انحصار کرتی ہیں۔ اگر ان درآمد کنندگان کو غیر مسابقتی ٹیکس نظام کے باعث کاروبار بند کرنا پڑا تو چھوٹے کاروبار سستے اور معیاری خام مال سے محروم ہو جائیں گے، جس سے روزگار اور مقامی صنعتی پیداوار متاثر ہوگی۔ معاشی ماہرین کے مطابق، ایسی پالیسیاں ملک کی مجموعی اقتصادی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں، جیسا کہ بی بی سی اردو کی متعدد رپورٹس میں تجزیہ کیا گیا ہے۔
ایف پی سی سی آئی اور ملک بھر کی کاروباری برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فنانس بل پر نظرثانی کرتے ہوئے صنعتی خام مال پر تمام شعبوں کے لیے یکساں ٹیکس نظام نافذ کیا جائے۔ ان کے مطابق مساوی ٹیکس پالیسی ہی ایک مسابقتی، دستاویزی اور مستحکم معیشت کی ضمانت بن سکتی ہے۔ اس سلسلے میں وزیر خزانہ کی اپوزیشن اراکین سے ملاقات بھی اہمیت کی حامل ہے۔
واضح رہے کہ اس حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی پریس کانفرنس میں پاکستان یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن (PYMA)، پاکستان آرٹیفیشل لیدر امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن (PALIMA)، پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن (PCDMA)، پاکستان آئرن اینڈ اسٹیل مرچنٹس ایسوسی ایشن (PISMA) اور پاکستان پلاسٹک امپورٹرز ایسوسی ایشن کی قیادت نے بھی شرکت کی۔
