مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
منگل، 6 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.49 EUR/PKR 312.18 GBP/PKR 367.19 سونا/تولہ 430,629 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,843 USD/PKR 277.49 EUR/PKR 312.18 GBP/PKR 367.19 سونا/تولہ 430,629 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,843
قومی

قومی اسمبلی بجٹ بحث: اسپیکر نے جماعتوں کے صرف کردہ وقت کی تفصیلات جاری کیں

📅 بدھ، 17 جون 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
قومی اسمبلی بجٹ بحث: اسپیکر نے جماعتوں کے صرف کردہ وقت کی تفصیلات جاری کیں
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (ڈیسک)۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ پر ایوان میں اب تک 32 گھنٹے سے زائد بحث ہو چکی ہے جو بدھ کو مکمل ہو جائے گی، جس کے بعد اگلے دو دن کی کارروائی کے بارے میں باہمی مشاورت سے فیصلہ کیا جائے گا۔

بدھ کو قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اراکین کو بجٹ بحث کے دورانیے سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے 36 اراکین نے 7 گھنٹے 42 منٹ تک بحث میں حصہ لیا ہے، جبکہ ان کا 8 گھنٹے 12 منٹ کا وقت باقی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے 31 ممبران نے 10 گھنٹے 5 منٹ بحث میں حصہ لیا ہے، جو کہ اپنے مختص وقت سے ایک گھنٹہ 10 منٹ زیادہ ہے۔

دیگر جماعتوں کی کارکردگی

اسپیکر نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے 10 ممبران نے بحث میں حصہ لیا اور 2 گھنٹے 51 منٹ اظہار خیال کیا، جس میں انہوں نے اپنے طے شدہ وقت سے 12 منٹ زیادہ لیے ہیں۔ اسی طرح، اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت (سنی اتحاد کونسل/پی ٹی آئی) کے 47 ممبران 12 گھنٹے 12 منٹ بولے ہیں، جو طے شدہ وقت سے 2 گھنٹے زائد ہے۔ جے یو آئی (ف)، ایم ڈبلیو ایم اور دیگر جماعتوں نے بھی طے شدہ وقت سے زیادہ وقت لیا۔ قائد حزب اختلاف نے ایک گھنٹہ 16 منٹ تک تقریر کی۔

سردار ایاز صادق نے تجویز دی کہ اگر پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم مزید بولنا چاہتی ہیں تو وہ مسلم لیگ (ن) سے وقت لے سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر 32 گھنٹے 4 منٹ کی بحث ہو چکی ہے اور آج 40 گھنٹے پورے ہو جائیں گے۔ اس اہم پارلیمانی کارروائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگلے دو دن ایوان کی کارروائی کے طریقہ کار پر بیٹھ کر فیصلہ کیا جائے گا تاکہ بجٹ کی منظوری کا عمل احسن طریقے سے مکمل ہو۔ واضح رہے کہ وفاقی بجٹ پر بحث حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے اپنی تجاویز پیش کرنے کا ایک اہم موقع ہوتا ہے۔

گزشتہ سال کی مثال

اس سے قبل چیف وہپ عامر ڈوگر کی طرف سے اٹھائے گئے ایک نکتے کے جواب میں اسپیکر قومی اسمبلی نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال بجٹ پر 60 گھنٹے بحث کرائی گئی تھی اور اپوزیشن کو دگنا وقت دیا گیا تھا، تاہم اس کے باوجود انہیں یہ گلہ تھا کہ انہیں مناسب وقت نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوان کو قواعد و ضوابط کے مطابق چلانا ان کی ذمہ داری ہے اور وہ تمام جماعتوں کو مساوی مواقع فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جیسا کہ سابق فاٹا و پاٹا میں ٹیکس چھوٹ جیسے اہم قومی معاملات پر بھی بحث کی جاتی ہے۔

ٹیگز: #ایاز صادق #بجٹ اجلاس #پارلیمانی کارروائی #قومی اسمبلی #وفاقی بجٹ
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں