گلگت بلتستان سولر منصوبہ: تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی، وزیراعظم

اسلام آباد (اے پی پی)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے لیے 100 میگا واٹ شمسی بجلی کی فراہمی کے منصوبے کے تمام تر اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی۔
منگل کو وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنی زیر صدارت گلگت بلتستان میں 100 میگا واٹ شمسی توانائی کے منصوبے پر ایک جائزہ اجلاس کے دوران کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام اور متعلقہ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
منصوبے کی تکمیل اور شفافیت پر وزیراعظم کی ہدایات
وزیراعظم نے منصوبے پر کام کی رفتار تیز کرنے، اسے جلد از جلد مکمل کرنے اور منصوبے کے تمام مراحل میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے غیر جانبدار تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کی ہدایت کی۔ اجلاس میں متعلقہ حکام نے گلگت بلتستان میں وفاقی حکومت کے شمسی توانائی کے منصوبے کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔
منصوبے کی تفصیلات
بریفنگ میں بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کی سرکاری عمارتوں کے لیے 18 میگا واٹ شمسی توانائی کا منصوبہ زیر غور ہے۔ گلگت اور دیامیر ڈویژنز کی سرکاری عمارات کے لیے 18 میگاواٹ کا منصوبہ دسمبر 2026 تک مکمل ہوگا، جبکہ بلتستان ڈویژن کی سرکاری عمارات کی سولرائزیشن کا منصوبہ اکتوبر 2026 تک پایہ تکمیل کو پہنچے گا۔ اس کے علاوہ، گلگت، سکردو، چلاس اور خپلو میں گھروں کے لیے 82 میگاواٹ کے شمسی توانائی کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔
