مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,507 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,507
قومی

دہشتگردی کا تعلق افغانستان سے، معیشت آئی سی یو سے نکل چکی ہے: خواجہ آصف

📅 منگل، 16 جون 2026 ✍️ Dost news ⏱ 8 منٹ
khawaja asif
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (اے پی پی)۔ وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کا براہ راست تعلق افغانستان سے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آزاد کشمیر کے مہاجرین کی نشستوں کا فیصلہ وہاں کی منتخب اسمبلی اور عوامی نمائندگان کو ہی کرنا ہے۔

منگل کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے خواجہ محمد آصف نے کہا کہ تنقید کرتے ہوئے ہم ماضی کو بھول جاتے ہیں اور ایک دوسرے پر ایسے الزامات لگاتے ہیں جن کے ہم خود بھی مرتکب ہو چکے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے پر الزامات ضرور لگائے جائیں مگر اپنے ساتھیوں پر بھی نظر ڈالنی چاہئے، سیاست میں گرے ایریاز ہوتے ہیں لیکن بعض مواقع پر ان ایریاز کو کم کیا جاسکتا ہے۔

امن کی کوششیں اور قومی وقار

وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان نے امن مذاکرات کو وکٹری سٹینڈ پر پہنچا کر اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے وزیراعظم کی عالمی امن کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایک سال کے اندر دو مراحل ایسے آئے جس نے وطن عزیز کی عظمت کو پوری دنیا میں روشناس کرایا، اس پر ہم وزیر اعظم، عسکری قیادت اور ساری ٹیم کے شکر گزار ہیں جنہوں نے دانشمندی سے ناممکن کو ممکن بنایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب بڑے دشمن نے ہم پر حملہ کیا تو اس کا منہ توڑ جواب دیا گیا۔ ایسے لمحات قوموں کی تاریخ میں صدیوں بعد آتے ہیں جو لائق فخر ہیں۔ پاکستان کی عزت میں اگر اضافہ ہوا ہے تو قوم کے ہر ایک فرد کی عزت میں اضافہ ہوا ہے۔ بطور قوم ہمیں اس کامیابی کا جشن منانا چاہئے۔

بلوچستان کے مسائل کا حل مشترکہ ذمہ داری ہے

خواجہ آصف نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل ایک دو روز میں سامنے نہیں آئے، ان کا حل سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر دہشت گردوں نے ہائی ویز اور سڑکوں کو غیر محفوظ بنایا ہے تو اس ایوان کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل 50 کی دہائی سے ہیں اور انہیں مشترکہ دانش سے حل کرنا ہو گا کیونکہ یہ مسئلہ کسی ایک سیاسی جماعت یا صوبے کا نہیں بلکہ ہم سب کا ہے۔ اس کا ایسا حل ہونا چاہئے جو بلوچستان کے عوام کو قابل قبول ہو۔

ایران سے تعلقات اور اقتصادی فوائد

وزیر دفاع نے کہا کہ ایران کے ساتھ تعلقات میں حالیہ مہینوں میں خوشگوار بہتری آئی ہے۔ انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف پابندیاں ختم ہو رہی ہیں جس سے پاکستان کو بہت فائدہ ہوگا اور ہمیں اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندیوں کے خاتمے کا سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو پہنچے گا۔

دہشتگردی کا تعلق افغانستان سے ہے

وزیر دفاع نے زور دے کر کہا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کا تعلق براہ راست افغانستان سے ہے۔ انہوں نے بتایا، ”میں خود دو دفعہ کابل گیا ہوں، وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کی تحریری ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے عالمی سطح پر بھی بات چیت ہوئی ہے جس کی تفصیلات بین الاقوامی میڈیا پر بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”میں ترکیہ اور قطر میں بھی ان سے ملا ہوں، جہاں اعلیٰ اختیاراتی وفود بھی شامل تھے مگر مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہر چیز ان کی تسلی کے لیے کرنے کو تیار ہیں مگر وہ یہ ضمانت دینے کو تیار نہیں کہ ان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نے چالیس سال تک افغانوں کی میزبانی کی مگر یہاں امن نہیں آیا۔ 2022ء سے لے کر اب تک 4 ہزار سکیورٹی اہلکار اور افسران شہید ہو چکے ہیں، اور یہ اہلکار ان لوگوں کی وجہ سے شہید ہوئے جن کی ہم نے میزبانی کی ہے۔

ماضی کی پالیسیاں اور سکیورٹی فورسز کی قربانیاں

خواجہ آصف نے کہا کہ 80 کی دہائی کی پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان میدان جنگ بنا، باہر سے آنے والے لوگ چلے گئے اور سارا ملبہ اور اسلحہ یہاں چھوڑ گئے۔ اس کے منفی اثرات ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان بات چیت اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر اس کی ضمانت دینی ہوگی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ اس معاملے پر پوائنٹ سکورنگ نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دو روز میں ہم نے 21 جنازوں میں شرکت کی ہے، چھوٹے چھوٹے بچے یتیم ہو رہے ہیں۔ سیاچن اور افغان سرحد پر جو لوگ فرائض سرانجام دے رہے ہیں، ان کے بھی خاندان ہیں۔ ان کی قربانیاں ضرور رنگ لائیں گی اور رائیگاں نہیں جائیں گی۔ جو لوگ شہید ہو رہے ہیں، انہوں نے وفا کی داستان اپنے خون سے رقم کی ہے، یہ ہم سب کے شہید ہیں۔

آزاد کشمیر اور مہاجرین کی نشستوں کا معاملہ

وزیر دفاع نے کہا کہ آزاد کشمیر میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے اس میں برطانیہ میں مقیم بعض لوگ اور ہندوستان شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں مہاجرین کی 12 نشستیں ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے خون کی لکیر عبور کی۔ شہید مقبول بٹ، چوہدری غلام عباس اور کے ایچ خورشید بھی مہاجرین کی نشستوں سے کامیاب ہوئے تھے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ان نشستوں کے حوالے سے ایک فارن فنڈڈ تنظیم بلیک میل کر رہی ہے، جبکہ ان کے تمام تر مطالبات تسلیم کیے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام اور مہاجرین کو یہ فیصلہ کرنے دیا جائے لیکن کسی جتھے کو یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے حلقے میں پشتون ووٹرز موجود ہیں اور ان کی شناخت قائم و دائم ہے۔ اسی طرح پنجاب کے لوگ پشاور اور ملک کے دوسرے حصوں میں رہ رہے ہیں، پشتونوں کے لیے علیحدہ نشستوں کی بات کرنا تفرقہ بازی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ ایوان عوام کا نمائندہ ہے اور یہاں سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے وفاق اور وطن کے خلاف بات نہیں ہونی چاہیے۔

معاشی صورتحال میں بہتری

ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور کے آغاز پر ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا لیکن حکومتی اقدامات سے معیشت آئی سی یو سے نکل چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت استحکام کی راہ پر گامزن ہے اور امید ہے کہ آنے والے ایک دو سالوں میں جی ڈی پی گروتھ کی شرح کو 6 سے 7 فیصد تک لے جایا جا سکے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹیکس کی شرح ایسی ہونی چاہیے جہاں لوگ فخر سے خود ٹیکس ادا کر سکیں۔

ٹیگز: #افغانستان #خواجہ آصف #دہشتگردی #قومی اسمبلی #ملکی معیشت
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں