مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,551 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,551
تازہ ترین

بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر، اقوام متحدہ کی نئی ہدایات جاری

📅 ہفتہ، 30 مئی 2026 ✍️ Muhammad Khalid ⏱ 3 منٹ
بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر، اقوام متحدہ کی نئی ہدایات جاری
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اقوام متحدہ ۔30مئی (دوست نیوز):اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے بچوں کے لیے آن لائن پلیٹ فارمز کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر مؤثر اقدامات، سخت نگرانی اور جوابدہی کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔شنہوا کے مطابق جاری ہونے والے بیان میں وولکر ترک نے کہا کہ ڈیجیٹل دنیا بچوں کو تعلیم، سماجی روابط اور تخلیقی سرگرمیوں کے مواقع فراہم کرتی ہے، تاہم اسی کے ساتھ انہیں سلامتی، رازداری اور ذہنی و جسمانی صحت سے متعلق سنگین خطرات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بچوں کو آن لائن درپیش نقصانات ناگزیر نہیں بلکہ یہ اکثر پلیٹ فارمز کے ڈیزائن اور کاروباری طریقہ کار کا نتیجہ ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق لامتناہی اسکرولنگ، خودکار ویڈیو پلے اور مسلسل نوٹیفکیشنز جیسی خصوصیات بچوں کو زیادہ دیر تک آن لائن رکھنے کے لیے تیار کی جاتی ہیں، جو ان کی فلاح و بہبود پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر کی جانب سے جاری کردہ نئی ہدایات میں بچوں کے تحفظ کے لیے عمر کی تصدیق کے نظام میں حفاظتی اقدامات، بچوں کے حقوق پر ممکنہ اثرات کے لازمی جائزے اور قانون سازی یا پالیسی سازی کے عمل میں بچوں کی شمولیت کی سفارش کی گئی ہے۔ہدایات میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے شفافیت، مؤثر نگرانی اور جوابدہی کو لازمی بنایا جائے، جبکہ ایسے بچوں کو مؤثر قانونی اور انتظامی سہولیات فراہم کی جائیں جن کے حقوق کی خلاف ورزی ہو۔وولکر ترک نے کہا کہ سوشل میڈیا پر مکمل پابندیاں اس پیچیدہ مسئلے کا واحد حل نہیں ہیں۔

ان کے مطابق صرف بچوں کی رسائی محدود کرنا کافی نہیں، بلکہ پلیٹ فارمز کو بنیادی طور پر محفوظ بنانا، صارفین کے ڈیٹا کا تحفظ یقینی بنانا اور نقصان پہنچانے والوں کو جوابدہ ٹھہرانا ضروری ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ عمر کی تصدیق کے ناقص نظام نہ صرف اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہ سکتے ہیں بلکہ بچوں اور بالغوں دونوں کی رازداری کے لیے خطرہ بھی بن سکتے ہیں۔اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سربراہ نے مزید کہا کہ گزشتہ تجربات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پابندیوں کو آسانی سے نظرانداز کیا جا سکتا ہے، جبکہ اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ ایسی پابندیاں بچوں کو نسبتاً زیادہ خطرناک اور کم نگرانی والے آن لائن پلیٹ فارمز کی جانب دھکیل سکتی ہیں۔

ٹیگز: #international #UNO
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں