عید الاضحیٰ اور قربانی: چاند نظر آنے کے بعد بال اور ناخن کاٹنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

تحریر: خصوصی معلوماتی رپورٹ (برائے دوست نیوز)
جب ذوالحج کا چاند نظر آتا ہے، تو جہاں ایک طرف عید کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں، وہیں قربانی کرنے والوں کے ذہن میں ایک اہم سوال ابھرتا ہے: "کیا چاند نظر آنے کے بعد ناخن اور بال کاٹنا منع ہے؟”
عوام میں اس حوالے سے مختلف باتیں مشہور ہیں، جس کی وجہ سے اکثر لوگ الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ آئیے مستند احادیث اور فقہی آراء کی روشنی میں اس مسئلے کو بالکل سادہ انداز میں سمجھتے ہیں۔
اصل حدیثِ مبارکہ کیا ہے؟
اس پورے مسئلے کی بنیاد رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیثِ مبارکہ ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جب تم ذوالحج کا چاند دیکھ لو اور تم میں سے کوئی قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، تو وہ اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے رک جائے۔” (صحیح مسلم)
اس حدیث کی روشنی میں چاند رات (یکم ذوالحج) سے لے کر عید کے دن قربانی ہونے تک بال، ناخن یا جسم کے کسی بھی حصے کی جلد (کھال) کو نہ کاٹنا یا نہ تراشنا ایک پسندیدہ عمل ہے۔
کیا یہ حکم "فرض” ہے یا "مستحب”؟
بین الاقوامی محققین اور مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کے مطابق اس حکم کی نوعیت کو درج ذیل دو آراء میں سمجھا جا سکتا ہے:
1۔ مستحب اور سنت (فقہ حنفی، مالکی اور ایک روایت کے مطابق حنابلہ): برصغیر میں اکثریت (احناف) کے نزدیک چاند نظر آنے کے بعد بال اور ناخن نہ کاٹنا مستحب (پسندیدہ) ہے۔ یعنی اگر کوئی شخص اس پر عمل کرتا ہے تو اسے ثواب ملے گا، اور اگر کوئی مجبوری میں یا بھول کر بال یا ناخن کاٹ لیتا ہے، تو اس پر کوئی گناہ یا جرمانہ (دم) نہیں ہے، اور اس کی قربانی پر بھی کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
2۔ واجب یا لازمی (فقہ شافعی اور حنابلہ): بعض دیگر ائمہ کے نزدیک اس حدیث پر عمل کرنا واجب ہے، اس لیے وہ چاند نظر آنے کے بعد بال یا ناخن کاٹنے کو ممنوع (حرام یا مکروہِ تحریمی) سمجھتے ہیں، جب تک کہ قربانی نہ ہو جائے۔
اس پابندی کی حکمت کیا ہے؟
اسلامی اسکالرز اس کی دو خوبصورت حکمتیں بیان کرتے ہیں:
- حاجیوں سے مشابہت: جو لوگ حج پر نہیں جا سکے، وہ اپنے گھروں میں رہ کر بال اور ناخن نہ کاٹ کر گویا احرام باندھے ہوئے حاجیوں کی ایک عارضی مشابہت اختیار کرتے ہیں، تاکہ اللہ کی رحمت میں وہ بھی شامل ہو سکیں۔
- کامل مغفرت: قربانی کا مقصد انسان کی بخشش ہے۔ مانا جاتا ہے کہ جب قربانی کا خون گرتا ہے تو انسان کا پورا جسم گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے، اس لیے جسم کا کوئی حصہ (بال یا ناخن) پاک ہونے سے پہلے جدا نہ کیا جائے۔
عام طور پر پوچھے جانے والے ضروری سوالات (FAQs):
- سوال 1: یہ حکم کس کے لیے ہے؟ پورے گھر کے لیے یا صرف قربانی کرنے والے کے لیے؟
- جواب: یہ حکم صرف اس شخص کے لیے ہے جس کے نام پر قربانی ہو رہی ہے (گھر کا سربراہ یا جس نے حصہ ڈالا ہے)۔ گھر کے باقی افراد (بیوی، بچے) اگر چاہیں تو بال اور ناخن کاٹ سکتے ہیں۔
- سوال 2: اگر 40 دن سے زیادہ ہو چکے ہوں تو کیا کریں؟
- جواب: اسلام میں زیرِ ناف بال اور ناخن کاٹنے کی آخری حد 40 دن ہے۔ اگر کسی نے چاند نظر آنے سے پہلے یہ صفائی نہیں کی اور چاند نظر آ گیا، اور اب 40 دن پورے ہو رہے ہیں، تو اس کے لیے بال اور ناخن کاٹنا ضروری (واجب) ہو جائے گا۔ کیونکہ صفائی کا حکم اس مستحب عمل سے زیادہ بڑا ہے۔
- سوال 3: جو شخص قربانی نہیں کر رہا، کیا وہ بھی اس پر عمل کر سکتا ہے؟
- جواب: جی بالکل! حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص غریب ہونے کی وجہ سے قربانی نہیں کر سکتا، وہ بھی اگر چاند دیکھنے کے بعد بال ناخن نہ کاٹے اور عید کے دن کاٹے، تو اللہ پاک اسے اپنے فضل سے پوری قربانی کا ثواب عطا فرماتا ہے۔
نتیجہ (دوست نیوز کے قارئین کے لیے پیغام)
خلاصہ یہ ہے کہ اگر آپ قربانی کر رہے ہیں، تو افضل اور بہتر یہی ہے کہ ذوالحج کا چاند نظر آنے سے پہلے ہی (یعنی 29 ذی القعد کو) اپنے ناخن تراش لیں، حجامت بنوا لیں اور ضروری صفائی کر لیں۔ اس کے بعد عید کے دن جب تک آپ کا جانور ذبح نہ ہو جائے، بال اور ناخن کاٹنے سے پرہیز کریں۔ یہ ایک خوبصورت سنت ہے جو ہماری عبادت میں ادب اور عاجزی پیدا کرتی ہے۔
