قومی سلامتی کے بیانیے میں اکیڈیمیا کا کردار

نیشنل سیکیورٹی اینڈ اسٹریٹجک لیڈرشپ ورکشاپ 2026، ڈی جی آئی ایس پی آر کی مختلف جامعات کے وائس چانسلرزاورسینئر اساتذہ کیساتھ خصوصی نشست
ورکشاپ میں پاکستان کی 200 سے زائد جامعات کے وائس چانسلرز ،ڈین، رجسٹرارز اور سینئر اساتذہ نے شرکت کی
راولپنڈی میں منعقدہ نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ میں لاہور، کراچی، پشاور،مظفرآباد،ملتان اورکوئٹہ سے شرکاء آن لائن بھی شریک ہوئے
ڈی جی آئی ایس پی آرنے ورکشاپ میں شرکاء سے ملک کی داخلی صورتحال بالخصوص سیکیورٹی کے حوالے سے اہم امور پر گفتگو کی
خصوصی نشست میں شامل شرکاء کا کہنا تھا کہ؛
پاک فوج نے ملک کے دفاع،استحکام اورسلامتی کے لیے قابلِ فخرکردارادا کیا ہے
معرکہ حق میں پاکستان کو پاک افواج کی وجہ سے عظیم فتح نصیب ہوئی، شرکاء
ہمیں پورا بھروسہ ہے کہ ملکی دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے، شرکاء
پاک فوج پرنہ صرف آزادکشمیر بلکہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھی فخرہے، شرکاء
ہمیں طلباء کومنفی پروپیگنڈا سے بچانے اوردرست معلومات پہنچانے کے حوالے سے واضح رہنمائی ملی ہے، شرکاء
اکیڈیمیا کو قومی سلامتی، انفارمیشن وارفیئر اور ملک کودرپیش چیلنجز کےحوالے سے واضح آگہی دی گئی، شرکاء
افواجِ پاکستان اوراکیڈیمیا کے درمیان قائم کیا گیا یہ رابطہ وقت کی اہم ضرورت ہے، شرکاء
ورکشاپ کے شرکاء نے وائس چانسلرزاوراکیڈیمیا کوایک پلیٹ فارم پراکٹھا کرنے کے آئی ایس پی آرکے اقدام کو بے حد سراہا
تجزیہ
نیشنل سیکیورٹی اینڈ اسٹریٹجک لیڈرشپ ورکشاپ 2026 میں 200 سے زائد جامعات کے وائس چانسلرز، ڈینز، رجسٹرارز اور سینئر اساتذہ کی شرکت؛ قومی سلامتی، انفارمیشن وارفیئر اور نوجوان نسل کو منفی پروپیگنڈے سے بچانے پر اہم گفتگو۔
راولپنڈی میں منعقدہ نیشنل سیکیورٹی اینڈ اسٹریٹجک لیڈرشپ ورکشاپ 2026 صرف ایک رسمی نشست نہیں تھی بلکہ یہ ریاست، دفاعی اداروں اور ملک کے تعلیمی حلقوں کے درمیان ایک اہم فکری رابطے کی علامت بن کر سامنے آئی۔ اس ورکشاپ میں پاکستان کی 200 سے زائد جامعات کے وائس چانسلرز، ڈینز، رجسٹرارز اور سینئر اساتذہ کی شرکت اس بات کا واضح پیغام ہے کہ قومی سلامتی اب صرف سرحدوں، ہتھیاروں یا عسکری حکمت عملی تک محدود نہیں رہی، بلکہ اس کا ایک بڑا محاذ جامعات، نوجوان ذہنوں، معلوماتی شعور اور قومی بیانیے سے بھی جڑا ہوا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے اکیڈیمیا کے ساتھ براہِ راست گفتگو ایک مثبت اور بروقت قدم ہے، کیونکہ آج کی دنیا میں جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی بلکہ ذہنوں، معلومات، سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور بیانیوں کے ذریعے بھی لڑی جاتی ہے۔ ایسے ماحول میں جامعات کا کردار بہت اہم ہو جاتا ہے، کیونکہ یہی ادارے نوجوان نسل کی فکری سمت، تحقیقی سوچ، قومی شعور اور سماجی رویوں کو تشکیل دیتے ہیں۔
اس نشست کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ شرکاء کو ملک کی داخلی صورتحال، سیکیورٹی چیلنجز، انفارمیشن وارفیئر اور منفی پروپیگنڈے کے اثرات کے حوالے سے آگاہی دی گئی۔ یہ پہلو خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ اس وقت پاکستان کو روایتی خطرات کے ساتھ ساتھ ففتھ جنریشن وار، جعلی خبروں، گمراہ کن بیانیوں اور سوشل میڈیا پر منظم پروپیگنڈے جیسے چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔ ایسی صورتحال میں اساتذہ اور وائس چانسلرز کو قومی سطح پر اعتماد میں لینا ایک دانشمندانہ حکمت عملی ہے۔
ورکشاپ کے شرکاء کی جانب سے پاک فوج کے کردار کو سراہنا بھی اس بات کا اظہار ہے کہ ملک کے تعلیمی حلقوں میں دفاعی اداروں کی قربانیوں اور کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ شرکاء نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ملک کا دفاع مضبوط ہاتھوں میں ہے، جبکہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے حوالے سے بھی پاک فوج کے ساتھ جذباتی اور قومی وابستگی کا اظہار کیا گیا۔ اس طرح کی آرا قومی یکجہتی کے لیے اہم حیثیت رکھتی ہیں۔
تعلیمی اداروں اور دفاعی اداروں کے درمیان یہ رابطہ خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور یہی نوجوان سوشل میڈیا، ڈیجیٹل بحث، سیاسی گفتگو اور قومی معاملات کے سب سے زیادہ فعال صارف ہیں۔ اگر جامعات میں قومی سلامتی، آئینی ذمہ داری، تحقیق پر مبنی رائے، درست معلومات اور ذمہ دارانہ اظہار کے موضوعات پر سنجیدہ مکالمہ شروع ہو جائے تو معاشرے میں فکری پختگی پیدا ہو سکتی ہے۔
یہ نشست اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس میں صرف راولپنڈی میں موجود شرکاء ہی شامل نہیں ہوئے بلکہ لاہور، کراچی، پشاور، مظفرآباد، ملتان اور کوئٹہ سے بھی شرکاء نے آن لائن شرکت کی۔ اس سے یہ پیغام ملتا ہے کہ قومی سلامتی کا مکالمہ کسی ایک شہر، صوبے یا ادارے تک محدود نہیں بلکہ پورے پاکستان کی مشترکہ ضرورت ہے۔
مثبت پہلو یہ بھی ہے کہ اکیڈیمیا کو صرف سننے کے لیے نہیں بلکہ قومی بیانیے کا حصہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ جب استاد، محقق، وائس چانسلر اور تعلیمی منتظم قومی معاملات کو بہتر انداز میں سمجھتے ہیں تو وہ طلباء کو بھی جذباتی ردعمل کے بجائے تحقیق، دلیل، ذمہ داری اور قومی مفاد کی بنیاد پر سوچنے کی تربیت دے سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر یہ ورکشاپ ایک اچھا آغاز ہے۔ پاکستان کو اس وقت جس قسم کے داخلی، خارجی، ڈیجیٹل اور فکری چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا مقابلہ صرف سیکیورٹی اداروں کے ذریعے نہیں بلکہ پوری قوم، خاص طور پر تعلیمی اداروں کی شمولیت سے ہی ممکن ہے۔ افواجِ پاکستان اور اکیڈیمیا کے درمیان اس نوعیت کا رابطہ اگر مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے تو یہ نوجوان نسل کو منفی پروپیگنڈے سے بچانے، قومی وحدت کو مضبوط کرنے اور پاکستان کے مستقبل کو زیادہ محفوظ، باشعور اور مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
