پنجاب کی ایسکرو پالیسی

ریئل اسٹیٹ میں خریدار کے پیسے کو “وعدوں” سے نکال کر “تحفظ” میں لانے کا وقت
فیچر رپورٹ
پاکستان کے ریئل اسٹیٹ اور ہاؤسنگ سیکٹر کا سب سے بڑا مسئلہ صرف مہنگائی، ٹیکس یا تعمیراتی لاگت نہیں؛ اصل مسئلہ اعتماد کا بحران ہے۔ خریدار اپنی عمر بھر کی جمع پونجی کسی ہاؤسنگ سوسائٹی، اپارٹمنٹ پراجیکٹ یا کمرشل منصوبے میں جمع کرا دیتا ہے، مگر کئی بار اسے نہ پلاٹ کا قبضہ ملتا ہے، نہ گھر کی چابی، نہ رقم کی واپسی۔ اسی پس منظر میں پنجاب حکومت کی طرف سے ہاؤسنگ سوسائٹیز اور تعمیراتی منصوبوں کے لیے ایسکرو اکاؤنٹ پالیسی لانے کی خبر ایک بڑی اصلاحی پیش رفت ہے۔ اگر یہ پالیسی واقعی سخت، شفاف اور ڈیجیٹل نظام کے ساتھ نافذ ہو گئی تو یہ پنجاب کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کو “فائل، وعدے اور بروشر” کے دور سے نکال کر “زمین، نقشہ، ترقی اور ڈیلیوری” کے دور میں داخل کر سکتی ہے۔
ایسکرو اکاؤنٹ کا سادہ مطلب یہ ہے کہ خریدار کا پیسہ براہِ راست ڈویلپر یا بیچنے والے کے ہاتھ میں نہیں جائے گا بلکہ ایک محفوظ اکاؤنٹ میں رکھا جائے گا۔ ڈویلپر کو رقم اسی وقت اور اسی حد تک ملے گی جب منصوبے کی قانونی منظوری، زمین کی ملکیت، ترقیاتی کام، تعمیراتی پیش رفت اور آخرکار قبضہ یا چابی دینے کے مراحل مکمل ہوں گے۔ عالمی سطح پر ایسکرو کا بنیادی تصور یہی ہے کہ ایک غیر جانبدار تیسرا فریق رقم کو اس وقت تک محفوظ رکھتا ہے جب تک معاہدے کی شرائط پوری نہ ہو جائیں؛ اگر بیچنے والا اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے تو رقم خریدار کے تحفظ میں رہتی ہے۔ ([Investopedia][1])
پنجاب حکومت پہلے ہی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے فائل سسٹم، جعلی پلاٹ فروخت، غیر منظور شدہ سکیموں اور غیر رجسٹرڈ فائلوں کے خلاف اصلاحات کی سمت میں قدم بڑھا چکی ہے۔ مارچ 2026 میں صوبائی سطح پر ہونے والی ایک میٹنگ میں یہ بتایا گیا کہ لاہور میں پہلے مرحلے میں ہاؤسنگ سوسائٹی فائل سسٹم ختم کیا جائے گا، پلاٹس کی خرید و فروخت کو Housing Schemes Management System سے منسلک کیا جائے گا، اور پلاٹ کی خرید صرف تصدیق شدہ لوکیشن شناخت اور پنجاب لینڈ ریکارڈز اتھارٹی کے سرکاری خط کی بنیاد پر ہو گی۔ اسی بریفنگ کے مطابق ہاؤسنگ سوسائٹیز کے این او سیز 90 دن میں جاری کرنے اور بعد ازاں اصلاحات کو دیگر اضلاع تک پھیلانے کا منصوبہ بھی زیر بحث آیا۔ ([The News Pakistan][2])
یہاں اصل نکتہ یہ ہے کہ صرف فائل سسٹم ختم کرنا کافی نہیں۔ اگر خریدار کی رقم پھر بھی ڈویلپر کے کنٹرول میں رہے، تو فراڈ کا راستہ بند نہیں ہو گا بلکہ صرف اس کی شکل بدل جائے گی۔ اسی لیے ایسکرو پالیسی کو HSMS، PLRA، LDA، RUDA، مقامی حکومت، بینکنگ سسٹم اور ڈویلپمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ جوڑنا ضروری ہے۔ ایک مضبوط ماڈل میں ہر پراجیکٹ کا الگ ایسکرو اکاؤنٹ ہونا چاہیے؛ اسی اکاؤنٹ میں خریداروں کی قسطیں جمع ہوں؛ رقم صرف منظور شدہ لے آؤٹ پلان، زمین کی ملکیت، ڈویلپمنٹ مائل اسٹون، تھرڈ پارٹی انجینئرنگ سرٹیفکیٹ اور اتھارٹی کی ڈیجیٹل تصدیق کے بعد جاری ہو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈویلپر کو پیسہ نہیں ملے گا؛ بلکہ مطلب یہ ہے کہ ڈویلپر کو پیسہ کام دکھانے کے بعد ملے گا، صرف اشتہار دکھانے کے بعد نہیں۔
پاکستان کے لیے یہ اصلاح اس لیے بھی ضروری ہے کہ ریئل اسٹیٹ فراڈ اب معمولی مسئلہ نہیں رہا۔ نیشنل اکاؤنٹبلٹی بیورو کے حوالے سے رپورٹ ہونے والی اصلاحی تجاویز میں بتایا گیا کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے نجی ہاؤسنگ سیکٹر میں 90 ہزار سے زیادہ شہری ایسے معاملات سے متاثر ہوئے جن میں انہوں نے ان پلاٹس کے لیے اربوں روپے ادا کیے جو عملی طور پر موجود ہی نہیں تھے۔ اسی رپورٹ میں 91 ہزار سے زیادہ اضافی پلاٹس اور 80 ہزار کنال زمین منظور شدہ منصوبوں سے باہر فروخت ہونے کا ذکر بھی سامنے آیا۔ NAB کی چار نکاتی اصلاحی تجویز میں ایک مرکزی آن لائن پورٹل، QR یا بار کوڈ والے الاٹمنٹ لیٹرز، ہر پراجیکٹ کے لیے لازمی ایسکرو اکاؤنٹ، اور amenity plots کی غیر قانونی فروخت کو جرم بنانے کی تجویز شامل تھی۔ ([The News Pakistan][3])
یہ اعداد و شمار ایک خطرناک حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں: پاکستان میں خریدار عموماً زمین نہیں خریدتا، وہ “امید” خریدتا ہے۔ اسے بروشر دکھایا جاتا ہے، سڑکوں کے وعدے کیے جاتے ہیں، مسجد، پارک، سکول، کمرشل ایریا اور گیٹڈ کمیونٹی کے خواب بیچے جاتے ہیں، مگر بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ زمین کم تھی، منظوری ادھوری تھی، پلاٹ اوور سیل ہو چکے تھے، یا ترقیاتی کام کے لیے خریداروں کی رقم کسی اور منصوبے یا ذاتی استعمال میں منتقل ہو گئی۔ ایسکرو پالیسی اسی خرابی پر براہِ راست ضرب لگاتی ہے کیونکہ یہ رقم کو “ڈویلپر کے وعدے” کے بجائے “منصوبے کی کارکردگی” سے منسلک کر دیتی ہے۔
پاکستان کے معاشی تناظر میں بھی یہ قدم اہم ہے۔ تعمیراتی شعبہ ملک کی معیشت میں ایک مضبوط رابطہ رکھنے والا سیکٹر ہے؛ Board of Investment کے مطابق پاکستان کی تعمیراتی صنعت GDP کا تقریباً 2.53 فیصد بنتی ہے اور ملازمت یافتہ لیبر فورس کے 7.61 فیصد کو روزگار دیتی ہے۔ اسی ذریعے کے مطابق ملک میں شہری آبادی 36.38 فیصد ہے اور آبادی میں اضافے کی وجہ سے گھروں کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ([Board of Investment][4]) PACRA کی اپریل 2026 کی کنسٹرکشن رپورٹ کے مطابق FY25 میں کنسٹرکشن سیکٹر کا GDP میں حصہ تقریباً 2.3 فیصد رہا، صنعتی شعبے میں اس کا حصہ تقریباً 12.5 فیصد تھا، اور FY25 میں اس سیکٹر نے تقریباً 6.5 فیصد سالانہ نمو دکھائی۔ ([PACRA][5])
یہ اعداد بتاتے ہیں کہ تعمیرات صرف بلڈرز کا کاروبار نہیں؛ یہ سیمنٹ، سریا، ٹائل، پینٹ، لکڑی، شیشہ، بجلی، پلمبنگ، مزدوری، ٹرانسپورٹ، بینکنگ، انشورنس اور خدمات کے بڑے نیٹ ورک کو حرکت دیتی ہے۔ لیکن جب ہاؤسنگ سیکٹر میں فراڈ بڑھتا ہے تو سرمایہ کار کا اعتماد ٹوٹتا ہے، بیرونِ ملک پاکستانی محتاط ہو جاتے ہیں، اصل ڈویلپر بھی مشکوک نظر آنے لگتے ہیں، بینک فنانسنگ کمزور پڑتی ہے اور قانونی تنازعات میں اربوں روپے پھنس جاتے ہیں۔ ایسکرو پالیسی اس پورے سیکٹر کو صاف کرنے کا ایک ایسا آلہ بن سکتی ہے جو اچھے ڈویلپر کو فائدہ اور فراڈ کرنے والے کو نقصان دے۔
پنجاب حکومت کی مجوزہ اصلاحات میں غیر قانونی ہاؤسنگ سکیموں کے اشتہارات پر پابندی، پراپرٹی ڈیلرز کی رجسٹریشن، خلاف ورزی کرنے والوں کے بینک اکاؤنٹس اور اثاثے منجمد کرنے، اور ایسے منصوبوں کے خلاف کارروائی جیسے نکات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جہاں ڈویلپرز منظور شدہ زمین سے زیادہ فائلیں بیچتے ہیں یا قسطیں لینے کے بعد پلاٹ کی لوکیشن بدل دیتے ہیں۔ ([Zameen][6]) یہ تمام اقدامات اچھے ہیں، مگر ان کی کامیابی کا دار و مدار اسی بات پر ہے کہ کیا خریدار کا پیسہ محفوظ رہے گا یا نہیں۔ کیونکہ اگر پیسہ پہلے ہی نکل جائے، تو بعد کی کارروائی خریدار کے لیے انصاف نہیں بلکہ صرف تسلی بن کر رہ جاتی ہے۔
ایسکرو پالیسی کا بہترین ماڈل یہ ہونا چاہیے کہ ہر ہاؤسنگ سوسائٹی یا بلڈنگ پراجیکٹ کے لیے پہلے پراجیکٹ رجسٹریشن نمبر جاری ہو، پھر منظور شدہ زمین، لے آؤٹ پلان، پلاٹوں کی تعداد، رہن یا تنازع کی حیثیت، ترقیاتی لاگت، مکمل ہونے کی تاریخ، اور ہر پلاٹ یا یونٹ کا منفرد ڈیجیٹل نمبر عوامی پورٹل پر ظاہر کیا جائے۔ خریدار جب قسط جمع کرائے تو رقم اسی پراجیکٹ کے ایسکرو اکاؤنٹ میں جائے، نہ کہ ڈویلپر کے جنرل بزنس اکاؤنٹ میں۔ رقم کی ریلیز مرحلہ وار ہو: مثال کے طور پر زمین کی مکمل ٹرانسفر اور منظوری کے بعد محدود فیصد، سڑکوں اور سیوریج کے بعد دوسرا حصہ، بجلی و پانی کی بنیادی تنصیب کے بعد اگلا حصہ، اور قبضہ یا چابی کے بعد آخری حصہ۔ اس نظام میں بینک، اتھارٹی، تھرڈ پارٹی انجینئر اور خریدار سب کو ڈیجیٹل اطلاع ملنی چاہیے۔
سب سے اہم شرط یہ ہونی چاہیے کہ کوئی سوسائٹی یا منصوبہ اس وقت تک مارکیٹنگ نہ کر سکے جب تک اس کا ایسکرو اکاؤنٹ، منظور شدہ لے آؤٹ پلان اور ڈیجیٹل پلاٹ انوینٹری عوام کے لیے دستیاب نہ ہو۔ اسی طرح اشتہار میں صرف “منظوری زیرِ عمل” لکھ کر عوام سے رقم لینا بند ہونا چاہیے۔ جو پراجیکٹ واقعی منظور شدہ ہے اسے QR کوڈ کے ذریعے چیک کیا جا سکے؛ خریدار کو موبائل پر معلوم ہو کہ پلاٹ نمبر واقعی موجود ہے، زمین اتنی ہی ہے جتنی دکھائی جا رہی ہے، پلاٹ پہلے کسی اور کو فروخت نہیں ہوا، اور قسطیں کس اکاؤنٹ میں جا رہی ہیں۔ یہی وہ ڈیجیٹل شفافیت ہے جس کے بغیر ایسکرو صرف کاغذی پالیسی رہ جائے گا۔
اس پالیسی کا ایک بڑا فائدہ اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ہو گا۔ بیرونِ ملک رہنے والے پاکستانی پاکستان میں گھر، پلاٹ یا اپارٹمنٹ خریدنا چاہتے ہیں مگر انہیں موقع پر جا کر زمین دیکھنے، فائل چیک کرنے، اتھارٹی سے تصدیق لینے یا ڈویلپر کی مالی حالت جانچنے میں مشکل ہوتی ہے۔ ایسکرو اکاؤنٹ اور ڈیجیٹل ویریفکیشن انہیں یہ اعتماد دے سکتی ہے کہ ان کی رقم اس وقت تک محفوظ ہے جب تک منصوبہ حقیقت میں آگے نہیں بڑھتا۔ اس سے قانونی سرمایہ کاری بڑھے گی، مشکوک فائل ٹریڈنگ کم ہو گی، اور پاکستان کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں بیرونی اعتماد بہتر ہو گا۔
البتہ اس پالیسی کے نفاذ میں چیلنجز بھی کم نہیں ہوں گے۔ کچھ ڈویلپرز یہ مؤقف اختیار کریں گے کہ تعمیراتی منصوبوں کو چلانے کے لیے پہلے سے کیش فلو چاہیے؛ اگر رقم ایسکرو میں بند رہی تو پراجیکٹ سست ہو جائیں گے۔ یہ اعتراض جزوی طور پر درست ہے، مگر اس کا حل پالیسی کو روکنا نہیں بلکہ مائل اسٹون بیسڈ ریلیز، بینک گارنٹی، ڈویلپر ایکویٹی کی کم سے کم شرط، اور پراجیکٹ فنانس ماڈل متعارف کرانا ہے۔ دنیا بھر میں سنجیدہ ڈویلپر اپنا حصہ ڈالتا ہے، بینک فنانسنگ لیتا ہے، اور خریدار کا پیسہ صرف ترقیاتی کام کے ساتھ استعمال کرتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہی اصول آنا چاہیے کہ خریدار کا پیسہ ڈویلپر کی ابتدائی سرمایہ کاری کا متبادل نہیں بن سکتا۔
ایک اور خطرہ یہ ہے کہ ایسکرو اکاؤنٹ تو بن جائے مگر اس پر سیاسی دباؤ، بینکنگ کمزوری، جعلی سرٹیفکیٹ یا اتھارٹی کی ملی بھگت اثر انداز ہو جائے۔ اس کے لیے پالیسی میں تین حفاظتی دیواریں لازم ہیں: پہلی، تمام ریلیز ڈیجیٹل ٹریک پر ہوں؛ دوسری، ہر مائل اسٹون کی تھرڈ پارٹی انجینئرنگ آڈٹ ہو؛ تیسری، سالانہ پراجیکٹ آڈٹ رپورٹ عوامی پورٹل پر دستیاب ہو۔ اگر کسی ڈویلپر نے خریداروں کا پیسہ غلط استعمال کیا، جعلی ترقیاتی کام دکھایا یا منظور شدہ پلان سے ہٹ کر فروخت کی، تو صرف جرمانہ کافی نہیں؛ اس پر فوجداری کارروائی، اکاؤنٹس منجمد، ڈویلپر لائسنس معطل، اور متاثرین کو فوری ریفنڈ کا طریقہ ہونا چاہیے۔
یہ پالیسی صرف پنجاب میں نہیں رکنی چاہیے۔ اسلام آباد، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی ہاؤسنگ اور تعمیراتی منصوبوں کے لیے یہی ماڈل آنا چاہیے۔ پاکستان میں ریئل اسٹیٹ ایک صوبے تک محدود نہیں؛ ایک صوبے کی کمزور پالیسی دوسرے صوبے کے فراڈ کرنے والوں کے لیے پناہ گاہ بن سکتی ہے۔ اس لیے وفاقی سطح پر کم سے کم معیارات طے ہونے چاہئیں: ہر پراجیکٹ کا ایسکرو، ہر پلاٹ کی ڈیجیٹل شناخت، ہر منظور شدہ پلان کا آن لائن ریکارڈ، ہر ڈویلپر کی رجسٹریشن، اور ہر اشتہار کے لیے ریگولیٹری اجازت۔ صوبے اپنی اتھارٹیز کے ذریعے اس پر عمل درآمد کریں مگر بنیادی اصول پورے پاکستان میں ایک جیسے ہوں۔
پنجاب حکومت کے لیے بہترین راستہ یہ ہو گا کہ وہ اس پالیسی کو مرحلہ وار نافذ کرے۔ پہلے نئے پراجیکٹس پر لازمی ایسکرو، پھر زیرِ تعمیر منصوبوں کے لیے ٹرانزیشن پلان، پھر پرانی سوسائٹیز کے لیے ڈیجیٹل انوینٹری اور dispute resolution mechanism۔ ہر پراجیکٹ کے لیے ایک “خریدار ڈیش بورڈ” ہونا چاہیے جہاں خریدار اپنی رقم، قسطوں، پراجیکٹ پیش رفت، منظوریوں اور قبضہ شیڈول کو دیکھ سکے۔ اسی طرح ڈویلپرز کے لیے بھی ایک واضح ریٹنگ سسٹم ہو: کس نے وقت پر ڈلیور کیا، کس پر شکایات ہیں، کس کا اکاؤنٹ روکا گیا، کس کا پراجیکٹ تاخیر کا شکار ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ پنجاب کی ایسکرو پالیسی اگر صرف اعلان نہ رہے بلکہ قانون، بینکنگ، ڈیجیٹل تصدیق اور سخت نفاذ کے ساتھ آئے تو یہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سے خریدار کا پیسہ محفوظ ہو گا، جعلی فائلوں اور اوور سیلنگ کا راستہ بند ہو گا، اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد بڑھے گا، سنجیدہ ڈویلپرز کو فائدہ ہو گا، اور تعمیراتی شعبہ ایک زیادہ شفاف، دستاویزی اور قابلِ اعتماد صنعت بنے گا۔ پاکستان میں گھر کا خواب پہلے ہی مہنگا ہے؛ حکومت کا فرض ہے کہ اسے غیر محفوظ بھی نہ رہنے دے۔ ایسکرو پالیسی اسی سمت ایک درست قدم ہے — شرط صرف یہ ہے کہ اسے طاقتور لوگوں کے لیے نرم اور عام خریدار کے لیے نمائشی نہ بنایا جائے، بلکہ ہر پراجیکٹ، ہر فائل، ہر قسط اور ہر وعدے کو قانون کے دائرے میں لایا جائے۔
