Ahmad Faraz کی مکمل خوبصورت غزل

دوست نیوز
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سو اُس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے ربط ہے اُس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اُس کی
سو ہم بھی اُس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اُس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے رات اُسے چاند تکا کرتا ہے
ستارے بامِ فلک سے اُتر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے دن کو اُسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے حشر ہیں اُس کی غزال سی آنکھیں
سنا ہے اُس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے آدمی تفسیر ہو گیا اُس کا
سو اپنے آپ کو پیکر میں ڈھل کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اُس کی سیاہ چشمگی قیامت ہے
سو اُس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اُس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اُس کی
جو سادہ دل ہیں اُسے بن سنور کے دیکھتے ہیں
سنا ہے جب سے حمائل ہیں اُس کی گردن میں
مزاج اور ہی لعل و گہر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے چشمِ تصور سے دشتِ امکاں میں
پلنگ زاویے اُس کی کمر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے اُس کے بدن کی تراش ایسی ہے
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں
وہ سرو قامت ہے مگر بے گُلِ مراد نہیں
کہ اُس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں
بس ایک نگاہ سے لوٹ آتی ہے دنیا دل کی
سو اُس کو بارہا اہلِ نظر کے دیکھتے ہیں ✨
