مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 19°C
جمعرات، 5 نومبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.62 EUR/PKR 310.84 GBP/PKR 372.65 سونا/تولہ (عالمی) 427,793 PKR Bitcoin $79,535 USD/PKR 276.62 EUR/PKR 310.84 GBP/PKR 372.65 سونا/تولہ (عالمی) 427,793 PKR Bitcoin $79,535
بزنس

پاکستان میں بجلی کی منصوبہ بندی سے 17 ارب ڈالر بچت ممکن، لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کی تحقیق

📅 ✍️ ⏱ 5 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد، 5 نومبر 2026 — لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ (LEI) نے پاکستان کے توانائی بحران، بجلی کی لاگت اور طویل مدتی توانائی تحفظ پر میڈیا راؤنڈ ٹیبل میں اپنی تحقیق کے نتائج پیش کیے ہیں۔ ادارے کے مطابق مربوط منصوبہ بندی، توانائی کی بچت، مقامی صنعت اور قابل تجدید ذرائع پر توجہ سے بڑے معاشی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

’پاکستان کا توانائی تحفظ: میڈیا کے ساتھ مکالمہ‘ کے عنوان سے یہ دوسرا میڈیا راؤنڈ ٹیبل تھا، جس میں سینئر صحافیوں، توانائی کے حکام اور ماہرین نے شرکت کی۔ مئی 2026 کے پہلے اجلاس کے بعد اس نشست میں موسمی طلب، درآمدی ایندھن پر انحصار، گھروں میں شمسی بجلی کی پیداوار، گرڈ کے استحکام اور مالی پائیداری پر گفتگو ہوئی۔

بجلی کی منصوبہ بندی میں 17 ارب ڈالر کی ممکنہ بچت

لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے سینئر ایڈوائزر اور نیشنل گرڈ پاکستان کے بورڈ چیئرمین ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری نے بتایا کہ انڈی کیٹیو جنریشن کیپیسٹی ایکسپینشن پلان (IGCEP) 2025–2035 کے تحت کم لاگت والے پیداواری ذرائع کو ترجیح دینے کے لیے منصوبہ بندی پر نظرثانی سے تقریباً 17 ارب امریکی ڈالر کی ممکنہ بچت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یہ تحقیقی تخمینہ ہے، پہلے سے حاصل شدہ بچت نہیں۔

ادارے کی تحقیق کے مطابق اگر 25 فیصد رہائشی عمارتوں میں توانائی بچانے کے اقدامات اختیار کیے جائیں تو بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب میں تقریباً 3,000 میگاواٹ کمی اور سالانہ اخراجات میں ممکنہ طور پر 442.6 ارب روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔

ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری نے کہا کہ ادارہ بجلی کی طلب کے تخمینے، گرڈ کوڈ 2023، انرجی کنزرویشن بلڈنگ کوڈ 2023، الیکٹرک وہیکل پالیسی فریم ورک اور مقامی پیداواری صلاحیت سے متعلق تحقیق کے ذریعے پالیسی سازی میں تکنیکی معاونت فراہم کر رہا ہے۔

2040 تک صاف بجلی کا مجوزہ منصوبہ

’نیٹ زیرو ٹرانزیشن‘ تحقیق میں مالی سال 2040 تک بجلی کی پیداوار میں فوسل فیول کا حصہ مالی سال 2024 کے 49 فیصد سے گھٹا کر تقریباً ایک فیصد کرنے کا راستہ پیش کیا گیا ہے۔ مجوزہ پیداواری امتزاج میں پن بجلی 47 فیصد، ہوا 25 فیصد، جوہری توانائی 18 فیصد اور شمسی توانائی آٹھ فیصد شامل ہیں۔ تحقیق میں تقریباً 78 ملین ٹن کاربن اخراج سے بچنے کا تخمینہ بھی دیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق صارفین کی سطح پر شمسی بجلی بڑھنے سے قومی گرڈ کی کم از کم طلب تقریباً 3,000 میگاواٹ تک کم ہو سکتی ہے۔ اس صورت میں بیٹری اسٹوریج، طلب کے انتظام اور گرڈ کو مستحکم رکھنے کی خدمات مزید اہم ہو جائیں گی۔

پرانے بجلی گھروں کا متبادل استعمال

لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کی ایک تحقیق میں تجویز دی گئی کہ موزوں موجودہ تھرمل پاور پلانٹس کو سنکرونس کنڈینسرز میں تبدیل کرکے بجلی کے نظام کو ضروری معاون خدمات فراہم کی جا سکتی ہیں۔ تاہم کسی پلانٹ کی تبدیلی کا فیصلہ تکنیکی موزونیت اور معاشی افادیت کے جائزے کے بعد ہی کیا جا سکے گا۔

مقامی صنعت کے لیے 1.1 ٹریلین روپے کے مواقع

تحقیق کے مطابق بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے آلات کی متوقع طلب 1.9 ٹریلین روپے ہے، جس میں سے تقریباً 1.1 ٹریلین روپے کے آلات پاکستان میں تیار کیے جانے کی صلاحیت موجود ہو سکتی ہے۔ اس جائزے میں 49 مقامی صنعت کاروں کی پیداواری استعداد اور تیاری کی سطح دیکھی گئی۔

ادارے نے پاور سیکٹر انڈیجینائزیشن پلان پر عمل درآمد تیز کرنے کی سفارش کی تاکہ مقامی صنعت کو فروغ اور درآمدات پر انحصار کم کیا جا سکے۔

بیٹری اسٹوریج کی طلب میں نمایاں اضافے کا تخمینہ

پیش کردہ تحقیق میں پاکستان میں بیٹری اسٹوریج کی متوقع طلب 2025–26 کے لیے چار سے پانچ گیگاواٹ آور بتائی گئی، جو 2031 تک 45 سے 50 گیگاواٹ آور تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ مستقبل کی طلب کا تخمینہ ہے، موجودہ نصب شدہ صلاحیت کا عدد نہیں۔

گرڈ اصلاحات اور میڈیا کے کردار پر گفتگو

اختتامی سوال و جواب کے سیشن میں انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر مسعود احمد، نیشنل گرڈ پاکستان کے منیجنگ ڈائریکٹر الطاف حسین ملک، آئی ایس ایم او کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمر ہارون اور لمز انرجی انسٹی ٹیوٹ کے ماہرین عمر فاروق اور فیصل جاوید مغل شریک ہوئے۔

شرکاء نے توانائی کی اصلاحات، سرمایہ کاری کی ترجیحات، قابل تجدید توانائی کو گرڈ میں شامل کرنے اور عوام تک درست تکنیکی معلومات پہنچانے میں میڈیا کے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں پیش کردہ بچت اور توانائی کی منتقلی کے اعداد تحقیقی امکانات اور تجاویز ہیں؛ ان کا حصول متعلقہ پالیسیوں، سرمایہ کاری اور عملی نفاذ سے مشروط ہوگا۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں