مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 19°C
ہفتہ، 31 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.78 EUR/PKR 309.05 GBP/PKR 370.48 سونا/تولہ (عالمی) 402,337 PKR Bitcoin $77,383 USD/PKR 276.78 EUR/PKR 309.05 GBP/PKR 370.48 سونا/تولہ (عالمی) 402,337 PKR Bitcoin $77,383
قومی

پاکستان میں تیل صاف کرنے والی ریفائنریز کو جدید خطوط پر استوار اور مقامی تیل و گیس کی پیداوار بڑھانا ناگزیر ہے، سیف الرحمان

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
پاکستان میں تیل صاف کرنے والی ریفائنریز کو جدید خطوط پر استوار اور مقامی تیل و گیس کی پیداوار بڑھانا ناگزیر ہے، سیف الرحمان
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

پاکستان میں تیل صاف کرنے والی ریفائنریز کو جدید خطوط پر استوار اور مقامی تیل و گیس کی پیداوار بڑھانا ناگزیر ہے، سیف الرحمان

لاہور۔25 اکتوبر: وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان میں آئل ریفائنریز کو جدید سائنسی اور تکنیکی خطوط پر اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جدید صنعتوں کی ضروریات کے مطابق معیاری پیٹرولیم مصنوعات تیار کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے۔

پیٹرولیم ڈیلرز کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئل ریفائننگ کا شعبہ سرمایہ کاری کے لیے پرکشش مواقع رکھتا ہے، اس لیے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو جدید ریفائنریز کے قیام کی طرف راغب کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے تاکہ ملک کی مقامی تیل کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ تیل اور گیس کی تلاش اور پیداوار کے عمل کو تیز کرکے پاکستان عالمی منڈی میں سپلائی کی رکاوٹوں اور بحرانوں کے اثرات کم کر سکتا ہے اور بتدریج توانائی کے شعبے میں خودکفالت حاصل کر سکتا ہے۔ خام تیل کی ریفائننگ اور پیٹرولیم مصنوعات کی تیاری قومی توانائی کی ضروریات کا اہم حصہ ہیں۔

سیف الرحمان نے کہا کہ تیل و گیس کی کمپنیوں کو ڈرلنگ اور پیداوار کے شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی اور اختراعی طریقہ کار اپنانا ہوگا۔ روایتی عمودی کنوؤں کے بجائے افقی ڈرلنگ کے منصوبوں کو ترجیح دینے اور ہائیڈرولک فریکچرنگ ٹیکنالوجی استعمال کرنے سے تیل کے ذخائر سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے 9 آئل فیلڈز میں تقریباً 12 کروڑ 40 لاکھ بیرل تیل کے باقی ماندہ ذخائر موجود ہیں، جبکہ 28 گیس فیلڈز میں تقریباً 13.5 ٹریلین مکعب فٹ گیس کے ذخائر دستیاب ہیں۔ ان ذخائر سے استفادہ کرنے کے لیے ضرورت کے مطابق مزید کنوؤں کی کھدائی اور مقامی پیداوار میں اضافہ ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے، اس لیے معمول کے سیاسی حالات کی بحالی کا انتظار کرنے کے بجائے فوری اور غیر معمولی اقدامات کرنا ہوں گے۔

سیف الرحمان نے کہا کہ پاکستان کی پیٹرولیم ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (ای اینڈ پی) انڈسٹری نے مشکلات کے باوجود نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم ڈرلنگ اور تیل و گیس کی تلاش کے بھاری اخراجات اس شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ موجودہ عالمی تیل بحران کے تناظر میں ایکسپلوریشن اور پروڈکشن کمپنیوں کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، اپنے مالی وسائل بروئے کار لاتے ہوئے موجودہ ذخائر سے تیزی سے زیادہ سے زیادہ پیداوار حاصل کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پہلے ہی عام شہریوں اور ملکی معیشت پر اضافی بوجھ ڈال رہی ہیں۔ پاکستان میں روزانہ تقریباً 68 ہزار بیرل خام تیل اور 2.9 ارب مکعب فٹ گیس پیدا ہوتی ہے، جو ملک کی مجموعی ضروریات کا بالترتیب صرف 16 فیصد اور 71 فیصد پورا کرتی ہے، جبکہ باقی ضروریات درآمدات کے ذریعے پوری کی جاتی ہیں، جن میں زیادہ تر سپلائی خلیج فارس سے آتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مقامی تیل و گیس کی پیداوار بڑھانے، ریفائنریز کو جدید بنانے اور تلاش و پیداوار کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی سے درآمدی انحصار کم، قیمتی زرمبادلہ کی بچت اور پاکستان کی طویل مدتی توانائی سلامتی کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں