خلیج میں تیل بردار جہاز پر حملہ، سمندر میں تیل پھیل گیا، یو اے ای کے متعدد ساحل بند، ماحولیاتی بحران کا خدشہ
خلیج میں تیل بردار جہاز پر حملہ، سمندر میں تیل پھیل گیا، یو اے ای کے متعدد ساحل بند، ماحولیاتی بحران کا خدشہ
دبئی: خلیج عرب میں تیل بردار جہاز پر حملے کے بعد سمندر میں تیل کے اخراج سے متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقوں میں ماحولیاتی آلودگی پھیلنے کے خدشات بڑھ گئے، جس کے پیش نظر راس الخیمہ سمیت متعدد امارات میں ساحل سمندر بند کر دیے گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق راس الخیمہ نے اپنے تمام ساحلوں کو عوام کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ پڑوسی امارات ام القوین اور شارجہ میں بھی ساحلی علاقوں کو احتیاطی تدابیر کے تحت بند کیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے سمندر میں تیل کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرہ علاقوں کا ماحولیاتی جائزہ لینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیات نے تصدیق کی ہے کہ ایک آئل ٹینکر سے سمندر میں تیل خارج ہو رہا ہے اور متعلقہ ادارے اس صورتحال سے نمٹنے میں مصروف ہیں۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق میری ٹائم انٹیلی جنس سے وابستہ ادارے کے سربراہ مارٹن کیلی نے متاثرہ جہاز کی شناخت جیم نمبر 2 (Gem No. 2) کے نام سے کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق 9 اکتوبر کو متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب اس جہاز کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی تھی۔
تیل کے اخراج کے باعث ام القوین کے تمام ساحل اور شارجہ کا الحمریہ بیچ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ حکام نے ماہی گیروں اور سمندر میں سرگرم دیگر افراد کو متاثرہ علاقوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ بعض ساحلی علاقوں کے رہائشیوں نے تیل کی غیر معمولی بو محسوس ہونے کی شکایات بھی کی ہیں۔
سمندر میں تیل کا پھیلاؤ آبی حیات، ساحلی ماحول اور سمندری ماحولیاتی نظام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ حکام آلودگی کے پھیلاؤ کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم اس کے مجموعی ماحولیاتی اثرات اور صفائی کے عمل میں لگنے والے وقت کے بارے میں حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے باعث خلیج عرب میں بحری جہازوں کی سلامتی اور توانائی کی ترسیل کے راستوں کو پہلے ہی غیر معمولی خطرات کا سامنا ہے۔ تیل بردار جہازوں پر حملوں اور سمندری آلودگی کے واقعات نے خطے کی بحری تجارت اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔
