خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کا فارورڈ بلاک بنانے کی تیاری، اگلے وزیراعلیٰ کے لیے حکومتی حمایت یافتہ امیدوار تیار، کامران مرتضیٰ کا دعویٰ
خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کا فارورڈ بلاک بنانے کی تیاری، اگلے وزیراعلیٰ کے لیے حکومتی حمایت یافتہ امیدوار تیار، کامران مرتضیٰ کا دعویٰ
اسلام آباد: خیبرپختونخوا کی سیاست میں نئی ہلچل پیدا ہوگئی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی سے ایک رکن کو الگ کرکے آئندہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے لیے تیار کر لیا گیا ہے، جبکہ صوبائی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے اندر فارورڈ بلاک بنانے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے۔
جیو نیوز اردو کی 24 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سینیٹر کامران مرتضیٰ نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت کی حمایت سے خیبرپختونخوا کا آئندہ وزیراعلیٰ منتخب کیا جائے گا اور اس مقصد کے لیے پی ٹی آئی کے اندر سے ایک رکن کو الگ کیا گیا ہے۔
ان کے دعوے کے مطابق حکومتی رضامندی اور معاونت سے صوبائی اسمبلی میں پی ٹی آئی کا فارورڈ بلاک تشکیل دیا جائے گا، جس کے ذریعے صوبے میں نئی سیاسی صف بندی کی راہ ہموار کی جائے گی۔
کامران مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ جمہوری طریقے سے آگے بڑھنے میں ہی مسائل کا حل ہے۔ پی ٹی آئی اپنی جگہ موجود رہے گی اور کسی کو اس جماعت سے کوئی مسئلہ نہیں، تاہم جمعیت علمائے اسلام خیبرپختونخوا میں اپنے سیاسی پروگرام اور حکمت عملی کے مطابق جدوجہد جاری رکھے گی۔
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اپوزیشن لیڈر نہیں بنیں گے، محمود خان اچکزئی قائد حزب اختلاف ہیں اور ہم ان کا احترام کرتے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں دہشت گردی اور امن و امان کی صورتحال پر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ دہشت گردی کا خاتمہ اور عوام کی جان، مال اور عزت کا تحفظ ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے صرف بیانات کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد صوبے کی سیاسی صورتحال غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ ایسے میں پی ٹی آئی کے اندر فارورڈ بلاک بنانے اور وفاقی حکومت کی حمایت سے نیا وزیراعلیٰ لانے کے دعوے صوبے میں نئی سیاسی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
تاہم پی ٹی آئی کے اندر فارورڈ بلاک کی تشکیل، کسی رکن کی علیحدگی یا آئندہ وزیراعلیٰ کے لیے امیدوار طے کیے جانے کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
ماخذ: جیو نیوز اردو، 24 اکتوبر 2026۔
