ایران پر نئے امریکی حملے کی تیاریاں تیز، بحیرہ عرب میں جنگی ہتھیاروں کی بڑی کھیپ پہنچا دی گئی، بنکر بسٹر بم بھی شامل
ایران پر نئے امریکی حملے کی تیاریاں تیز، بحیرہ عرب میں جنگی ہتھیاروں کی بڑی کھیپ پہنچا دی گئی، بنکر بسٹر بم بھی شامل
واشنگٹن: امریکا نے ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے لیے اپنی جنگی تیاریاں تیز کر دیں، بحیرہ عرب میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن پر جدید میزائلوں اور تباہ کن بنکر بسٹر بموں کی بڑی کھیپ منتقل کر دی گئی، جس سے خطے میں ایک نئی جنگ کے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی 24 اکتوبر کو جاری کردہ خصوصی ویڈیو رپورٹ کے مطابق اخبار کی صحافی شیلبی ہولیڈے نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے بھاری مقدار میں جدید جنگی ہتھیاروں کے ذخائر اور ان کی منتقلی کا مشاہدہ کیا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی بحری جہاز پر اسٹینڈ آف لینڈ اٹیک میزائل اور انتہائی طاقتور بنکر بسٹر بم پہنچائے جا رہے ہیں۔ ان ہتھیاروں میں GBU-31(V)4 بنکر بسٹر بم بھی شامل ہیں، جنہیں مضبوط اور زیر زمین فوجی اہداف کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
امریکی بحریہ کے کمانڈر برائن گارشیا نے صحافی کو ہتھیاروں کی منتقلی اور فوجی تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ دی۔ رپورٹ کے مطابق امریکی فوج ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کی صورت میں اپنی جنگی صلاحیت اور اسلحے کے ذخائر مستحکم کر رہی ہے۔
بنکر بسٹر بم ایسے تباہ کن ہتھیار ہیں جو مضبوط کنکریٹ اور چٹانوں میں گھس کر زیر زمین تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ ان کی موجودگی ایران کی مضبوط فوجی تنصیبات اور زیر زمین اہداف کے حوالے سے امریکی فوجی منصوبہ بندی کی اہمیت کو مزید بڑھا دیتی ہے، تاہم ان ہتھیاروں کے مخصوص اہداف کی تصدیق نہیں کی گئی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی کے خدشات بڑھ رہے ہیں اور امریکا کو ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خطرات درپیش ہیں۔
امریکی فوجی نقل و حرکت اور بھاری ہتھیاروں کی تعیناتی نے اس سوال کو ایک بار پھر اہم بنا دیا ہے کہ آیا واشنگٹن ایران کے خلاف محدود کارروائی کی تیاری کر رہا ہے یا خطے میں ایک بڑے فوجی تصادم کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے۔
تاہم وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر نئے حملے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے یا فوجی کارروائی کی کوئی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
