گندم کی امدادی قیمت 4500 روپے فی من مقرر کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے، افتخار علی ملک
گندم کی امدادی قیمت 4500 روپے فی من مقرر کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے، افتخار علی ملک
لاہور (رپورٹ ڈیجیٹل): سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے وزیراعظم کی جانب سے آئندہ فصل کے سیزن کے لیے گندم کی امدادی قیمت 4500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت، ایندھن کی بلند قیمتوں اور مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کرنے والے کسانوں کو خاطر خواہ ریلیف ملے گا۔
جاری کردہ بیان میں افتخار علی ملک نے کہا کہ گندم کی امدادی قیمت میں اضافہ زرعی برادری کے تحفظ اور ملکی زرعی معیشت کو مضبوط بنانے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ کھاد، بیج، ڈیزل اور بجلی سمیت اہم زرعی مداخل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث کسانوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے اور فصلوں کی کاشت پر آنے والی لاگت میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ کھاد، معیاری بیج اور بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی کرکے انہیں مناسب سطح پر لایا جائے، جبکہ زرعی مقاصد کے لیے بجلی سستی فراہم کی جائے تاکہ زراعت کی پائیدار ترقی ممکن بنائی جا سکے۔
افتخار علی ملک کا کہنا تھا کہ سستی زرعی مداخل فصلوں کی پیداوار بڑھانے، غذائی تحفظ یقینی بنانے اور کسانوں کی آمدن میں اضافے کے لیے ناگزیر ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ حکومت ایک جامع، پائیدار اور مستقل زرعی معاونتی پالیسی تشکیل دے اور اس پر بروقت عملدرآمد بھی یقینی بنائے۔ ایسی پالیسی کسانوں کو گندم کی پیداوار بڑھانے، درآمدات پر انحصار کم کرنے اور قومی معاشی استحکام میں مؤثر کردار ادا کرنے کی ترغیب دے سکتی ہے۔
