برآمدات کے فروغ کے لیے مشرقِ وسطیٰ سمیت علاقائی ممالک کے ساتھ تجارت کو وسعت دی جائے، سیف الرحمان
برآمدات کے فروغ کے لیے مشرقِ وسطیٰ سمیت علاقائی ممالک کے ساتھ تجارت کو وسعت دی جائے، سیف الرحمان
لاہور، 11 اکتوبر: وفاقی محتسب برائے ٹیکس کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کو برآمدات میں اضافے، زرمبادلہ کے حصول اور پاکستانی مصنوعات کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے علاقائی ممالک، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینی چاہیے۔ اتوار کو لاہور میں تاجروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات، خصوصاً پھلوں، سبزیوں اور پراسیس شدہ غذائی اشیا کے لیے نمایاں مواقع موجود ہیں۔ ان مصنوعات میں عالمی معیار کے مقبول برانڈ ضیا اسنیکس بھی شامل ہیں۔ سیف الرحمان نے کہا کہ نئی منڈیوں تک رسائی کے لیے مضبوط تجارتی نیٹ ورکس قائم کرنے اور برآمد کنندگان کو ضروری سہولتیں فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ قریبی اقتصادی تعاون سے پاکستان کو اپنی برآمدات میں تنوع لانے، سرمایہ کاری راغب کرنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے برآمدی طریقہ کار کو آسان بنانے، رسد اور ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے اور برآمد کنندگان کے لیے توانائی اور پیداواری لاگت کو مسابقتی سطح پر رکھنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت بڑھانے کے لیے بینکاری اور کسٹمز کے شعبوں میں بھی سہولتیں فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جغرافیائی اور اقتصادی اعتبار سے اہم فوائد حاصل ہیں، جنہیں پڑوسی اور علاقائی معیشتوں کے ساتھ مضبوط تجارتی روابط قائم کرنے کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سیف الرحمان نے کہا کہ تجارتی خسارے میں کمی اور اضافی قدر کی حامل مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بیرونِ ملک پاکستانی سفارتی مشنز پر بھی زور دیا کہ وہ کاروباری مواقع کی نشاندہی، پاکستانی برآمد کنندگان کو غیر ملکی خریداروں سے منسلک کرنے اور ملکی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں متعارف کرانے کے لیے زیادہ فعال کردار ادا کریں۔
