مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
بدھ، 7 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.74 EUR/PKR 311.39 GBP/PKR 367.04 سونا/تولہ 426,538 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,220 USD/PKR 276.74 EUR/PKR 311.39 GBP/PKR 367.04 سونا/تولہ 426,538 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,220
قومی

قطر کی ایل این جی برآمدات 96 فیصد کم، 24 ارب ڈالر کے نقصان کا خدشہ

📅 بدھ، 26 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 3 منٹ
قطر کی ایل این جی برآمدات 96 فیصد کم، 24 ارب ڈالر کے نقصان کا خدشہ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

قطر کی ایل این جی برآمدات 96 فیصد کم، 24 ارب ڈالر کے نقصان کا خدشہ

دوحہ: ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں شدید خلل کے باعث قطر کی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی برآمدات میں 96 فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے، جس سے گزشتہ چھ ماہ کے دوران قطر کو تقریباً 24 ارب ڈالر کی برآمدی آمدن سے محروم ہونا پڑا ہے۔

آئل پرائس کے مطابق رائٹرز کے حسابات میں بتایا گیا ہے کہ قطر، جو دنیا کے بڑے ایل این جی برآمد کنندگان میں شامل ہے، جنگی صورتحال کے باعث اپنی گیس کی عالمی منڈیوں تک ترسیل برقرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چھ ماہ میں قطر سے صرف 18 ایل این جی کارگو روانہ ہوئے، جبکہ گزشتہ سال اسی مدت کے دوران یہ تعداد 509 تھی۔

رپورٹ کے مطابق قطر کی ایل این جی برآمدات میں غیر معمولی کمی کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز میں بحری تجارت میں رکاوٹ اور خطے کی کشیدہ سکیورٹی صورتحال ہے۔ قطر عالمی ایل این جی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ فراہم کرتا ہے، اس لیے اس کی برآمدات میں بڑی کمی نے عالمی گیس مارکیٹ پر بھی نمایاں اثرات مرتب کیے ہیں۔

قطر کو دیگر خلیجی ممالک کے مقابلے میں زیادہ نقصان اس لیے اٹھانا پڑ رہا ہے کہ اس کی ایل این جی کی بڑی مقدار سمندری راستے سے آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کم از کم دو قطری ایل این جی ٹینکروں کو بھی حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قطری گیس کی سپلائی میں کمی کے نتیجے میں امریکی ایل این جی برآمد کنندگان کو عالمی منڈی میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کا موقع ملا ہے، جبکہ یورپی ممالک کو گیس کی متبادل سپلائی کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ موسم سرما سے قبل گیس کے ذخائر بھرنے کی کوششیں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق یورپ میں گیس کے ذخائر سال کے اس مرحلے کے لحاظ سے غیر معمولی طور پر کم سطح پر ہیں، جس کے باعث آنے والے موسم سرما میں توانائی کی قلت اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر نہ آئی تو قطر کی ایل این جی برآمدات میں طویل رکاوٹ عالمی توانائی مارکیٹ میں مزید بے یقینی اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہے، جبکہ یورپ اور ایشیا میں محدود ایل این جی سپلائی کے حصول کے لیے مسابقت بھی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں