مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,513 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,513
بزنس

پیاف کا پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ میں اضافے پر تشویش

📅 پیر، 24 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
پیاف کا پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ میں اضافے پر تشویش
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی) پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف) کے بانی میاں شفقت علی، پیٹرن چیف انجینئر سہیل لاشاری، چیئرمین سید محمود غزنوی، سینئر وائس چیئرمین خواجہ کاشف الٰہی، وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن اور چیئرمین ایسوسی ایٹ کلاس فرخ احسان خان نے اپنے مشترکہ بیان میں پاور سیکٹر کے سرکلر ڈیٹ میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بجلی کے شعبے میں بڑھتے ہوئے مالی بحران سے ملکی معیشت، صنعت اور کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ صورتحال کا فوری اور جامع جائزہ لے اور اس کا مستقل حل تلاش کرے۔

سرکلر ڈیٹ کا حجم اور معاشی اثرات

پیاف کے عہدیداروں نے نشاندہی کی کہ جون 2026ء کے اختتام تک سرکلر ڈیٹ کا حجم 1.675 ٹریلین روپے تک پہنچ جانا انتہائی تشویشناک ہے، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے پایا جانے والا ہدف 1.614 ٹریلین روپے تھا۔ مقررہ اہداف کا حصول ممکن نہ ہونا پاور سیکٹر میں موجود بنیادی انتظامی اور مالی مسائل کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ اس ایکنک نے لاہور–ساہیوال–بہاولنگر موٹروے منصوبے کی منظوری دے دی، 407 ارب روپے لاگت، 295 کلومیٹر روٹ برقرار رکھنے کا فیصلہ جیسے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی معاشی استحکام ناگزیر ہے۔

اصلاحات اور مالی نظم و ضبط کی ضرورت

پیاف نے حکومت پر زور دیا کہ سرکلر ڈیٹ میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے وصولیوں کے نظام، بجلی کے نقصانات اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کی کارکردگی میں فوری بہتری لائی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام ڈسکوز کو اپنی کارکردگی اور لاگت کے مطابق مالی نظم و ضبط کا سختی سے پابند بنایا جائے۔ بجلی کی خرید و فروخت سے متعلق واجبات کی بروقت ادائیگی کے لیے ایک موثر اور شفاف میکنزم تشکیل دیا جائے تاکہ گردشی قرضے کا بہاؤ مزید نہ بڑھے۔ اس ضمن میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ازبکستان کے وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ کے ذریعے علاقائی معاشی روابط بڑھانے کے ساتھ ساتھ ملکی توانائی شعبے میں بھی بہتری لانا ہوگی۔

شفافیت اور طویل مدتی حل

پیاف کے عہدیداروں نے ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کے موجودہ نظام پر نظرثانی اور مرحلہ وار اصلاحات کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو آزاد بجلی گھروں (آئی پی پیز) کے معاہدوں کا جامع جائزہ لینا چاہیے اور جہاں ممکن ہو، وہاں صارفین اور قومی خزانے پر پڑنے والے غیر ضروری مالی بوجھ کو کم کیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاور سیکٹر میں شفافیت، گورننس اور احتساب کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ توانائی کے شعبے میں کسی بھی قسم کی اصلاحات کو سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر مستقل بنیادوں پر نافذ کیا جانا چاہیے۔ یاد رہے کہ سرکاری و پرائیویٹ حج سکیم کے واجبات کی وصولی جاری، حج پورٹل سے شفاف ادائیگی یقینی بنانے کی طرز پر ہی بجلی کے شعبے میں بھی ڈیجیٹل شفافیت لانا ہوگی۔ پیاف کا ماننا ہے کہ گردشی قرضے کے مسئلے کا پائیدار حل ہی توانائی کے شعبے کو مالی استحکام اور ملکی معیشت کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کر سکتا ہے۔

ٹیگز: #پاکستان #پاور سیکٹر #پیاف #گردشی قرضہ #معیشت
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں