مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 430,038 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,186 USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 430,038 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $83,186
قومی

ٹریفک مینجمنٹ: لاہور نے سفری وقت میں 149 شہروں کو پیچھے چھوڑ دیا

📅 جمعرات، 20 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پنجاب کے دارالحکومت لاہور نے شہری سڑکوں کے جدید انفراسٹرکچر، بہترین ٹریفک مینجمنٹ اور سفر کی رفتار کے شعبے میں ایک اور تاریخی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ عالمی سطح پر معتبر ادارے نُمبیو (Numbeo) کے جاری کردہ عالمی ٹریفک انڈیکس 2026ء کے مطابق لاہور نے روزمرہ کے کم سے کم سفری وقت (Travel Time) کے معاملے میں دنیا کے 149 معروف شہروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ جدت، معیار اور رفتار کے لحاظ سے لاہور خطے کے دیگر بڑے شہروں سے کہیں آگے نکل چکا ہے۔

عالمی انڈیکس میں لاہور کی شاندار کارکردگی

عالمی ٹریفک انڈیکس کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں اوسطاً ایک طرف کا سفری وقت تقریباً 34.8 منٹ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو کہ نیویارک، ٹورنٹو، سڈنی، میلبورن، استنبول اور بینکاک جیسے عالمی میٹروپولیٹن شہروں کے مقابلے میں کہیں بہتر اور مختصر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جہاں دنیا کے کئی بڑے دارالحکومتوں اور تجارتی شہروں کے شہریوں کو شدید ٹریفک جام اور گھنٹوں کی تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہیں لاہور کا ‘ٹریفک انڈیکس’ 146.8 ریکارڈ کیا گیا، جبکہ پاکستان کے تجارتی مرکز کراچی کا انڈیکس 187.8 رہا جہاں اوسط سفری وقت 42.1 منٹ ہے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات کے لیے پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت، پیاف کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ انفراسٹرکچر کی بہتری کس طرح معاشی پہیے کو متحرک رکھتی ہے۔

حکومتی اقدامات اور بہتری کی جانب سفر

لاہور ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام اور شہری انتظامیہ کے مطابق، عالمی فہرست میں شہر کی درجہ بندی میں مسلسل بہتری آ رہی ہے، کیونکہ اس عالمی انڈیکس میں درجہ بندی کا نیچے ہونا بہتر ٹریفک، کم سفری وقت اور موثر شاہراہوں کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ لاہور سال 2024ء میں 120 ویں اور 2025ء میں 129 ویں نمبر پر تھا، جبکہ اب 2026ء میں یہ مزید بہتر ہو کر 149 ویں سے 150 ویں پوزیشن کے قریب پہنچ گیا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صوبائی حکومت اور انتظامی اقدامات رنگ لا رہے ہیں۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ وفاقی کابینہ کی ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026ء اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010ء میں ترامیم کی منظوری جیسے اہم قومی فیصلوں کے ساتھ ساتھ شہری سہولیات کی فراہمی میں بھی حکومت خاصی متحرک دکھائی دیتی ہے۔

جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور ٹریفک روانی

چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور کے مطابق اس اہم کامیابی کے پیچھے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، سیف سٹیز کیمروں کے ذریعے نگرانی، پیٹرولنگ کا موثر نظام، سگنل فری راہداریوں (Corridors) کی تعمیر، نئے انڈر پاسز، غیر ضروری یو ٹرن کی بندش اور ون وے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں گرین بس سروس، اینٹی انکروچمنٹ ڈرائیو اور ڈرائیونگ قوانین کی پاسداری کی وجہ سے سڑکوں پر گاڑیوں کی روانی میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس سے نہ صرف شہریوں کے قیمتی وقت کی بچت ہو رہی ہے بلکہ ایندھن کی بھی بچت ممکن ہو سکی ہے۔ اس ضمن میں یوکرین جنگ کے باعث ہماری سیاحت متاثر ہوئی، 7 یورپی ممالک نے یورپی یونین سے 2 ٹریلین یورو مانگ لیے جیسی بین الاقوامی صورتحال کے برعکس لاہور میں جاری ترقیاتی کام شہریوں کیلئے ریلیف کا باعث ہیں۔

مستقبل کے چیلنجز اور عزم

اگرچہ ٹریفک پولیس انتظامیہ کا ماننا ہے کہ پارکنگ پلازوں کی کمی اور بعض گنجان آباد علاقوں میں تجاوزات جیسے چیلنجز اب بھی درپیش ہیں، تاہم موجودہ ترقیاتی و فلاحی اقدامات اور جدید بنیادی ڈھانچے کے ساتھ لاہور کا عالمی سطح پر 149 بین الاقوامی شہروں سے بہتر کارکردگی دکھانا صوبائی حکومت کی جامع حکمت عملی کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔

ٹیگز: #پاکستان #ٹریفک انڈیکس #شہری ترقی #لاہور #نُمبیو
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں