مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 429,632 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,430 USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 429,632 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,430
قومی

ترقی و اچھی حکمرانی کے لیے نئے صوبے ناگزیر ہیں، بزنس کمیونٹی جنوبی پنجاب

📅 بدھ، 19 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 3 منٹ
ترقی و اچھی حکمرانی کے لیے نئے صوبے ناگزیر ہیں، بزنس کمیونٹی جنوبی پنجاب
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

ترقی و اچھی حکمرانی کے لیے نئے صوبے ناگزیر ہیں، بزنس کمیونٹی جنوبی پنجاب

لاہور: جنوبی پنجاب کی بزنس کمیونٹی نے کہا ہے کہ بہتر حکمرانی، متوازن ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے نئے صوبوں کا قیام ناگزیر ہے، جبکہ حکومت کو اس حوالے سے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ سابق نائب صدر ایف پی سی سی آئی چوہدری زاہد اقبال، ایف پی سی سی آئی ریجنل کمیٹی برائے فوڈ کے کنوینر شاہد اقبال اور وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمن نے بدھ کو اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتظامی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے سے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو علاقائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے صوبوں کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ ملک کے تمام علاقوں کے عوام کو مساوی مواقع اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جاسکے۔ کاروباری رہنماؤں نے کہا کہ موجودہ انتظامی ڈھانچہ خصوصاً دور دراز اور پسماندہ علاقوں کی بڑھتی ہوئی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں۔ نئے صوبوں کے قیام سے سرکاری ادارے عوام کے قریب ہوں گے، عوامی خدمات کی فراہمی بہتر ہوگی اور معاشی و سماجی ترقی کا عمل تیز ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ نئے صوبوں کا معاملہ سیاسی یا جماعتی مفادات کے بجائے خالصتاً انتظامی، معاشی اور آئینی بنیادوں پر زیر غور لایا جانا چاہیے۔ بزنس کمیونٹی کے نمائندوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں زراعت، لائیو اسٹاک، صنعت، تجارت اور خدمات کے شعبوں میں ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں، تاہم مناسب انفراسٹرکچر اور ادارہ جاتی معاونت کی کمی کے باعث خطے کی معاشی صلاحیت پوری طرح بروئے کار نہیں لائی جاسکی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر ملک گیر بحث اور وسیع مشاورت کا آغاز کیا جائے، جس میں سیاسی جماعتوں، آئینی ماہرین، کاروباری برادری اور سول سوسائٹی کو شامل کیا جائے تاکہ تمام فریقین کی مشاورت سے قابل عمل اتفاق رائے پیدا کیا جاسکے۔ کاروباری رہنماؤں نے کہا کہ مضبوط علاقائی انتظامی ڈھانچے اور اختیارات کی مؤثر تقسیم سے نہ صرف پسماندہ علاقوں کی ترقی میں مدد ملے گی بلکہ وسائل کے منصفانہ استعمال، بہتر حکمرانی اور ملک کی مجموعی معاشی ترقی کی رفتار بھی تیز کی جاسکے گی۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں