برآمدات میں اضافہ ہی بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ کم کر سکتا ہے، خادم حسین

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ فائونڈر ز گروپ کے سرگرم رکن، پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن، سینئر نائب صدر فیروز پور روڈ بورڈ اور سابق ممبر لاہور چیمبر آف کامرس خادم حسین نے کہا ہے کہ کرنٹ اکائونٹ خسارے میں کمی اطمینان کا باعث ہے تاہم بیرونی کھاتوں میں بہتری کیلئے برآمدات میں تیز رفتار اضافہ ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ ملکی معیشت کیلئے ایک اہم اشارہ ہوتا ہے جس کا مستقل حل برآمدی شعبے کو مضبوط بنانے میں پوشیدہ ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ صنعتی پیداوار کی لاگت کم کرنے اور کاروباری ماحول کو سازگار بنانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے۔
صنعتی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت
اپنے بیان میں خادم حسین نے مزید کہا کہ توانائی کی بلند قیمتیں پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں مسابقت کے قابل بنانے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ برآمد کنندگان کے ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور پیداواری شعبے کو سستی توانائی کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ جیسا کہ بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششیں ناکام بنائیں گے، صدر زرداری، اسی طرح ملکی معیشت کی ترقی کے لیے بھی مربوط حکمت عملی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ درآمدات میں غیر ضروری اضافے کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے جبکہ صنعت کیلئے درکار خام مال اور مشینری کی درآمد میں سہولت دی جانی چاہیے۔
برآمدی مصنوعات میں تنوع اور پالیسی کا تسلسل
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئی منڈیوں کی تلاش اور برآمدی مصنوعات میں تنوع پیدا کیے بغیر بیرونی کھاتوں میں پائیدار بہتری لانا ممکن نہیں۔ خادم حسین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو برآمدی زنجیر کا حصہ بنانے کیلئے خصوصی پیکیج متعارف کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس نظام میں استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل سے ہی مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا جا سکتا ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس تیاری کے تناظر میں معاشی استحکام کے لیے ایسے اقدامات وقت کی ضرورت ہیں۔
معاشی خود انحصاری کا راستہ
انہوں نے مزید کہا کہ جولائی میں کرنٹ اکائونٹ خسارے میں کمی اگرچہ ایک مثبت پیش رفت ہے تاہم بروقت پالیسی اقدامات کے ذریعے صورتحال کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ترسیلات زر کے ساتھ ساتھ برآمدی آمدنی میں اضافہ ہی بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو مستقل بنیادوں پر کم کرسکتا ہے۔ پاکستان کی اسرائیلی فوج کے شام پر حملے کی شدید مذمت جیسے عالمی مسائل کے ساتھ ساتھ ملکی معاشی خود انحصاری بھی ایک اہم ترجیح ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت برآمدات دوست اور صنعت دوست پالیسیوں پر توجہ دے گی، کیونکہ ایک مضبوط برآمدی معیشت ہی پاکستان کو بیرونی مالی دباؤ اور قرضوں کے نہ ختم ہونے والے چکر سے نکالنے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔
