نادرا کی شہریوں کو تنبیہ، شناختی کارڈ نہ وصول کرنے پر منسوخ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے تمام شہریوں کے لیے ایک اہم پالیسی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ شناختی کارڈ کی درخواست جمع کرانے کے بعد اسے مقررہ مدت کے اندر لازمی وصول کریں۔ نادرا انتظامیہ کے مطابق، پالیسی کے تحت اگر کوئی شہری اپنے تیار شدہ کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) کو ڈلیوری کی آخری تاریخ کے بعد تین ماہ تک وصول نہیں کرتا، تو اسے سیکیورٹی اور انتظامی تدابیر کے تحت تلف (Destroy) کر دیا جائے گا۔
دوبارہ بنوانے پر دوبارہ فیس اور کارروائی لازم
نادرا حکام نے واضح کیا ہے کہ تین ماہ کی مدت ختم ہونے کے بعد تلف کیے گئے شناختی کارڈز کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے شہریوں کو نئے سرے سے کارروائی مکمل کرنا ہوگی۔ اس صورت میں سائلین کو نادرا دفاتر یا آن لائن پورٹل کے ذریعے بالکل نئی درخواست جمع کرانی پڑے گی اور متعلقہ فیس بھی دوبارہ ادا کرنا ہوگی۔ یاد رہے کہ حکومتی اداروں کی جانب سے اس طرح کے اقدامات اکثر عوامی سہولت اور ڈیٹا سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے جاتے ہیں، جیسا کہ حال ہی میں قومی قرضے اور عوام کا مستقبل: معاشی چیلنجز اور پائیدار حل جیسے معاملات پر بھی بحث کی جاتی رہی ہے۔
شہریوں کے لیے اہم ہدایات
نادرا کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے شناختی کارڈز کی پیشرفت اور ڈلیوری کی تاریخ سے باخبر رہنے کے لیے نادرا کے ٹریکنگ سسٹم اور موصول ہونے والے ایس ایم ایس (SMS) الرٹس پر توجہ دیں۔ نادرا کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد دفاتر میں غیر فعال اور پرانے کارڈز کے ذخیرے کو روکنا اور دستاویزات کے غلط استعمال یا گمشدگی کے خدشات کو ختم کرنا ہے۔
شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ نادرا سینٹرز سے شناختی کارڈ کا ٹریکنگ آئی ڈی چیک کریں اور ڈلیوری کا میسج ملتے ہی یا مقررہ وقت پر متعلقہ رجسٹریشن سینٹر پہنچ کر اپنا کارڈ فوری حاصل کریں تاکہ اضافی مالی بوجھ اور وقت کے ضیاع سے بچا جا سکے۔ اس حوالے سے مزید تفصیلات اور رہنمائی کے لیے شہری نادرا کی ویب سائٹ کا دورہ کر سکتے ہیں، جس طرح دیگر قومی امور پر معلومات کے لیے عمران خان سے متعلق فیصلہ بہت پہلے آ جانا چاہیے تھا، فضل الرحمان جیسے بیانات عوام میں موضوع بحث رہتے ہیں۔ نادرا نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اپنی دستاویزات کی بروقت وصولی ہر شہری کی ذمہ داری ہے تاکہ وہ کسی بھی قسم کی قانونی یا انتظامی پیچیدگی سے محفوظ رہ سکیں۔ ادارہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے کہ سسٹم کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے، بالکل اسی طرح جیسے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کو مسلسل تیسرا بین الاقوامی پلاٹینم ایوارڈ کا حصول کارکردگی کی نئی مثال ہے۔
