مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,052 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,057 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,052 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,057
تازہ ترین

تائیوان پر دنیا کا پہلا مکمل خودکار مصنوعی ذہانت سائبر حملہ

📅 جمعرات، 13 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ تائیوان کے سرکاری اداروں اور حساس انفراسٹرکچر پر ایک بے حد خطرناک اور پیچیدہ سائبر حملہ کیا گیا ہے، جس کی سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ اسے انسانوں کے بجائے ایک مکمل خودکار مصنوعی ذہانت (AI) کے سسٹم نے انجام دیا ہے۔ تائیوان کے اعلیٰ حکام اور بین الاقوامی سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق، تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے جہاں کسی ملک کے دفاعی اور سرکاری سسٹمز پر انسان کی براہِ راست مداخلت کے بغیر AI کے ذریعے اتنا بڑا حملہ کیا گیا ہو۔

سائبر حملے کی نوعیت اور اہداف

تائیوان کی نیشنل سائبر سیکیورٹی ایجنسی کے مطابق، یہ حملہ رواں ہفتے کے آغاز میں شروع ہوا جس کا بنیادی ہدف تائیوان کی اہم سرکاری وزارتی ویب سائٹس، مواصلاتی نظام اور توانائی کی تقسیم کے نیٹ ورکس تھے۔ جس طرح پشاور یونیورسٹی میں کم داخلوں کے باعث 20 شعبوں کے انضمام کی منظوری دی گئی ہے، اسی طرح تائیوان نے بھی اپنے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مستحکم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ سیکیورٹی ماہرین نے جب اس حملے کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ یہ روایتی ہیکنگ سے بالکل مختلف تھا۔

جدید ترین اینٹی وائرس کی ناکامی

معمول کے سائبر حملوں میں ہیکرز خود کمپیوٹر کے سامنے بیٹھ کر کوڈنگ کرتے ہیں اور رکاوٹیں آنے پر اپنے طریقے بدلتے ہیں، لیکن اس بار یہ تمام کام ایک سو فیصد AI الگورتھم نے خود سے سرانجام دیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سائبر حملے میں استعمال ہونے والا AI سسٹم اس قدر جدید تھا کہ اس نے تائیوان کے سیکیورٹی سسٹمز میں موجود باریک ترین خامیوں (Vulnerabilities) کو خود ہی تلاش کیا اور انتہائی تیز رفتار سے ان کا فائدہ اٹھایا۔ جیسے ہی سرکاری سیکیورٹی سسٹمز نے حملے کو روکنے کی کوشش کی، AI نے پلک جھپکتے ہی اپنا رخ اور کوڈ بدل کر دفاعی حصار کو توڑا۔ یہ نظام انسانوں کے مقابلے میں ہزاروں گنا زیادہ تیز رفتاری سے فیصلے کر رہا تھا، جس کی وجہ سے روایتی اینٹی وائرس اور سائبر ڈیفنس پروگرامز اسے شناخت کرنے میں ناکام رہے۔

سائبر جنگ کے نئے دور کا آغاز

تائیوان کے دفاعی ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ حملے کے بڑے اثرات کو وقت پر کنٹرول کر لیا گیا ہے، لیکن یہ واقعہ دنیا بھر کے سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک جاگنے کا پیغام ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق جیسے اہم بین الاقوامی فیصلوں کے برعکس، یہ حملہ ریاستوں کے درمیان براہِ راست تصادم کے بجائے ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کی ایک نئی شکل ہے۔ اس حملے سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ اب سائبر جنگوں کا ایک نیا دور شروع ہو چکا ہے جہاں انسان کا مقابلہ اب انسان سے نہیں بلکہ خودکار مشینوں سے ہوگا۔ اگرچہ تائیوان کی حکومت نے کسی ملک کا نام براہِ راست نہیں لیا، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اس طرح کا انتہائی پیچیدہ اور مہنگا AI سسٹم تیار کرنا کسی عام ہیکر گروپ کے بس کی بات نہیں، بلکہ اس کے پیچھے یقینی طور پر کسی طاقتور ملک کی ریاستی سرپرستی شامل ہے۔ ایرانی سفیر کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات، باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کے تناظر میں دیکھا جائے تو علاقائی و عالمی سطح پر سائبر سیکیورٹی کا مسئلہ انتہائی نازک موڑ پر آ چکا ہے۔ سائبر سیکیورٹی کے عالمی اداروں نے اب تمام ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے دفاعی نظام کو AI کے حملوں سے نمٹنے کے قابل بنائیں، ورنہ آنے والے دنوں میں کوئی بھی ملک ایسے نادیدہ حملوں سے محفوظ نہیں رہے گا۔

ٹیگز: #ai #تائیوان #ٹیکنالوجی #سائبر حملہ #مصنوعی ذہانت
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں