امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں توسیع پر اتفاق

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے اسلام آباد معاہدے کے تحت امریکہ اور ایران کے درمیان 60 روز کی جنگ بندی کی مدت میں توسیع پر اتفاق ہو گیا ہے، کیونکہ رواں معاہدے کی مدت 17 اگست کو ختم ہو رہی ہے۔ بدھ کے روز پاکستانی سرکاری ذرائع نے یہ معلومات فراہم کیں۔ ثالثی کے عمل سے وابستہ ایک باخبر ذرائع نے بتایا کہ دونوں فریقین نے ڈیڈ لائن میں توسیع کے لیے ثالثوں کو اپنی باقاعدہ رضامندی سے آگاہ کر دیا ہے۔ تاہم، دونوں ممالک اب بھی توسیع کی دقیق مدت کو حتمی شکل دینے کے لیے پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں تاکہ نئے وقت کا تعین کیا جا سکے۔ واضح رہے کہ امریکہ اور ایران نے رواں سال اپریل میں پاکستان کی جانب سے کروائی گئی ابتدائی جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، جس کے بعد 17 جون کو باقاعدہ یادداشتِ سمجھوتہ (MoU) پر دستخط کیے گئے تھے۔ اس پیش رفت کے بعد حتمی اور پائیدار معاہدے کے حصول کے لیے باضابطہ مذاکرات کا آغاز بھی کیا گیا تھا۔
مذاکرات میں تعطل اور سیکیورٹی خدشات
تاہم، بعد میں سیکیورٹی ضمانتوں کی شرائط اور آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی جیسے انتہائی حساس اور پیچیدہ مسائل پر شدید اختلافات پیدا ہونے کی وجہ سے یہ اہم مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔ پاکستان علماء کونسل کی بحیرۂ احمر میں تجارتی بحری جہاز پر حوثی حملے کی شدید مذمت، تین پاکستانیوں کی ہلاکت پر اظہار افسوس کا واقعہ خطے کی کشیدہ صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت اس لیے بے حد زیادہ ہے کیونکہ یہ عالمی انرجی کی سپلائی اور بین الاقوامی تجارت کا سب سے بڑا اور سٹریٹجک سمندری راستہ تصور کیا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی نے پورے مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈال رکھا ہے، اور کسی بھی قسم کی فوجی جھڑپ عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر انتہائی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس نازک صورتحال کے پیش نظر، اسلام آباد نے دونوں ملکوں کو ایک میز پر لانے اور سفارتی راستے کھلے رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جیسا کہ نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کا بحیرۂ احمر میں تجارتی جہاز پر حملے پر گہری تشویش کا اظہار سامنے آیا ہے، حکومت پاکستان خطے میں امن کے لیے پرعزم ہے۔
مستقبل کے امکانات اور سفارتی کوششیں
پاکستانی حکام کا ماننا ہے کہ جنگ بندی کی مدت میں توسیع سے دونوں فریقوں کو اپنے اختلافات کو دور کرنے اور سیکیورٹی ضمانتوں پر دوبارہ گفت و شنید کا موقع مل جائے گا۔ اگرچہ مذاکرات کا عمل فی الحال سست روی کا شکار ہے، لیکن اس عارضی توسیع کو خطے میں پائیدار امن کے قیام، کشیدگی میں کمی اور خطے کو ایک بڑی جنگ سے بچانے کی جانب ایک خوش آئند اور مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری کی نظریں اب پاکستان کی ان سفارتی کوششوں پر مرکوز ہیں، کیونکہ پاکستان اور بیلاروس کا زرعی تجارت، سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر اتفاق جیسی دیگر کامیابیاں بھی پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی ساکھ کو ظاہر کرتی ہیں۔
