مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,507 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,384 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,507
بزنس

وفاقی حکومت کا مجموعی قرض 83.6 کھرب روپے کی ریکارڈ سطح پر

📅 بدھ، 12 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم رواں سال جون تک بڑھ کر 83.6 کھرب روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے، جس سے ملک کو درپیش مالیاتی دباؤ اور قرضوں کی بڑھتی ہوئی لاگت ایک بار پھر نمایاں ہوگئی ہے۔ مالیاتی ریکارڈز کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران ٹیکس وصولیوں اور سرکاری آمدنی میں نمایاں اضافے کے باوجود وفاقی قرضوں میں مجموعی طور پر تقریباً 75 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق حکومت کی آمدنی بڑھنے کے باوجود اخراجات، مالیاتی خسارے اور قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کا بڑھتا ہوا بوجھ قومی خزانے کے لیے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریونیو میں ہونے والا اضافی اضافہ بڑی حد تک قرضوں کی خدمت، خصوصاً سود کی ادائیگیوں میں استعمال ہو رہا ہے، جس کے باعث حکومت کے پاس وزیر خزانہ کی پاکستان بزنس کونسل کی قیادت سے ملاقات، سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال کے ساتھ ساتھ ترقیاتی اور عوامی فلاحی منصوبوں کے لیے محدود وسائل باقی رہ جاتے ہیں۔

مقامی قرضوں میں نمایاں اضافہ

مالیاتی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران وفاقی قرضوں میں اضافے کی بڑی وجہ مقامی ذرائع سے حاصل کیا جانے والا قرض ہے۔ حکومت نے بجٹ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے مسلسل قرض حاصل کیا، جبکہ بلند شرح سود کے باعث ان قرضوں کی لاگت بھی بڑھتی رہی۔ حکومت کی جانب سے شارٹ ٹرم ٹریژری بلز اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کے ذریعے بڑے پیمانے پر قرض حاصل کیا جاتا رہا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق مقامی مارکیٹ سے مسلسل قرض لینے کے باعث حکومت کو سود کی مد میں بھاری رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے، جس سے مالیاتی دباؤ میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب غیر ملکی قرضوں کے حجم پر بھی روپے کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور بیرونی قرضوں کی ادائیگی و تجدید کے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

ٹیکس وصولیوں میں اضافہ، مگر سود کا بوجھ برقرار

رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے ٹیکس وصولیوں میں نمایاں بہتری کے باوجود قرضوں میں مسلسل اضافہ مالیاتی نظام کے بنیادی مسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریونیو میں اضافے کا ایک بڑا حصہ قرضوں کے سود اور دیگر لازمی اخراجات پورے کرنے میں صرف ہوجاتا ہے۔ موجودہ مالیاتی صورتحال میں قرضوں پر سود وفاقی بجٹ کے سب سے بڑے اخراجاتی مد میں شامل ہے۔ نیشنل فنانس کمیشن کے تحت صوبوں کو حصہ منتقل کرنے کے بعد وفاقی حکومت کے پاس دستیاب آمدنی محدود ہوجاتی ہے، جس کے باعث دیگر اخراجات پورے کرنے کے لیے مزید قرض لینے کی ضرورت پیدا ہوتی ہے۔

ترقیاتی منصوبوں اور نجی شعبے پر اثرات

معاشی ماہرین کے مطابق بڑھتا ہوا قرض ملکی معیشت کی پائیداری کے لیے اہم چیلنج ہے۔ سود کی ادائیگیوں میں بڑی رقم خرچ ہونے کے باعث تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے وسائل محدود ہوسکتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مقامی بینکوں سے بڑے پیمانے پر قرض لینے سے نجی شعبے کے لیے دستیاب مالی وسائل بھی متاثر ہوتے ہیں، جس کے نتیجے میں تاجر برادری کے مسائل حل کرنے کے لیے مکمل تعاون جاری رہے گا اور کاروباری سرگرمیوں، نئی سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کی رفتار پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔

اخراجات میں کمی ناگزیر

اقتصادی ماہرین نے زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے قرضوں کے مسئلے کا حل صرف ٹیکس وصولیوں میں اضافے سے ممکن نہیں۔ حکومت کو غیر ضروری اخراجات میں کمی، پنشن اصلاحات، خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی تنظیم نو اور نجی کاری سمیت وسیع پیمانے پر مالیاتی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومتی اخراجات اور مالیاتی خسارے پر مؤثر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں ریونیو میں اضافے کے باوجود قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کا بوجھ مزید بڑھ سکتا ہے، جو ملکی معیشت کے لیے طویل المدتی چیلنج بن جائے گا۔ ایسے میں حکومت کو معاشی استحکام کے لیے پٹرول 1.70 روپے سستا، ڈیزل 1.39 روپے مہنگا، نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے ہو گیا جیسے عوامل کے ساتھ ساتھ سخت مالی تادیبی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونا پڑے گا۔

ٹیگز: #پاکستان #قرض #مالیاتی بحران #معیشت #وفاقی حکومت
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں