سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ معاشی تعلقات کا فروغ ناگزیر ہے

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن، فیروز پور روڈ بورڈ کے سینئر نائب صدر اور لاہور چیمبر آف کامرس کے سابق ممبر خادم حسین نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ممکنہ دفاعی معاہدہ نہ صرف سیکیورٹی بلکہ معاشی و تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے بھی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزیر خزانہ کی پاکستان بزنس کونسل کی قیادت سے ملاقات اور اس طرح کے سفارتی اقدامات کے بعد پاکستان کو سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ معاشی تعلقات مزید مستحکم کرنے اور برآمدات بڑھانے کے لیے ایک جامع اور مربوط حکمت عملی وضع کرنی چاہیے۔
معاشی شراکت داری کے وسیع مواقع
اپنے ایک بیان میں خادم حسین نے کہا کہ سعودی عرب کی وسیع مارکیٹ میں پاکستانی چاول، گوشت، پھل، سبزیاں، ٹیکسٹائل، سرجیکل آلات، کھیلوں کا سامان، فارماسیوٹیکلز اور معدنی مصنوعات کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ اسی طرح، ترکیہ کے ساتھ بھی ٹیکسٹائل، لیدر، انجینئرنگ مصنوعات، سنگ مرمر، زرعی اجناس اور آئی ٹی کے شعبوں میں تجارت کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ ہارون اختر خان صنعت و پیداوار کے لیے وزیراعظم کے مشیر مقرر ہونے کے بعد نجی شعبے کی مشاورت سے ایسی پالیسیاں ترتیب دے جس سے برآمدات میں تیزی آئے۔
تجارت کے اہداف اور نجی شعبے کا کردار
خادم حسین نے نشاندہی کی کہ پاکستان اور ترکیہ نے دوطرفہ تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے حصول کے لیے نجی شعبے کو سہولیات اور کاروباری مواقع فراہم کرنا ضروری ہیں۔ انہوں نے یہ تجویز بھی دی کہ سعودی عرب کے ساتھ تجارت کو موجودہ سطح سے کئی گنا بڑھا کر 10 ارب ڈالر سالانہ تک لے جانے کا ہدف رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجر برادری کے مسائل حل کرنے کے لیے مکمل تعاون جاری رہے گا اور برآمد کنندگان کو مسابقتی توانائی، سستی لاجسٹکس اور تیز رفتار ریفنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جانی چاہیے۔
سرمایہ کاری اور برانڈنگ کی اہمیت
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبے پاکستانی تعمیراتی، انجینئرنگ اور سٹون انڈسٹری کے لیے بہترین مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ پاکستانی ماربل اور گرینائٹ کو سعودی اور ترکیہ کی مارکیٹ میں بہتر برانڈنگ کے ساتھ متعارف کرایا جائے تو برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہے۔ آخر میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دفاعی تعاون کو معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے نجی شعبے کو مزید فعال اور متحرک کردار ادا کرنا ہوگا۔
