مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعہ، 9 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.02 EUR/PKR 310.47 GBP/PKR 366.18 سونا/تولہ 430,911 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $81,727 USD/PKR 277.02 EUR/PKR 310.47 GBP/PKR 366.18 سونا/تولہ 430,911 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $81,727
عالمی

شامی عدالت کا سابق صدر بشار الاسد کو سزائے موت کا حکم

📅 منگل، 11 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

دمشق (نمائندہ خصوصی)۔ دمشق کی ایک عدالت نے سابق حکمران بشار الاسد کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف سنگین جرائم کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ان کی عدم موجودگی میں سزائے موت سنا دی ہے۔ یہ تاریخی فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں طویل عرصے سے جاری سیاسی عدم استحکام اور خانہ جنگی کے بعد انصاف کی فراہمی کے لیے نئے عدالتی اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاریخی فیصلے کی تفصیلات کے مطابق عدالت نے اپنے تفصیلی حکم نامے میں کہا کہ بشار الاسد کے دورِ حکومت میں شہریوں کے خلاف خوفناک مظالم ڈھائے گئے، جن میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال، شہریوں پر بمباری، غیر قانونی گرفتاریاں اور تشدد کی سخت ترین شکلیں شامل تھیں۔ عدالتی پینل نے ان تمام الزامات اور ثبوتوں کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد سابق صدر کو سزائے موت کا مستوجب قرار دیا۔ واضح رہے کہ بشار الاسد دسمبر 2024 میں اس وقت دارالحکومت دمشق چھوڑ کر ماسکو فرار ہو گئے تھے جب مسلح مخالفین اور باغی فورسز نے دارالحکومت کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ ان کے فرار ہونے کے ساتھ ہی شام پر ان کی 24 سالہ طویل اقتدار کی حکمرانی کا سورج غروب ہو گیا تھا۔ یاد رہے کہ ماضی میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور شام میں خفیہ جوہری مقام سے مواد ہٹانے کا معاہدہ، امریکا کی ثالثی میں پیش رفت جیسے معاملات عالمی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ ان کے جانے کے بعد شام میں تشکیل پانے والے قانونی اور عدالتی اداروں نے ان کے دورِ اقتدار میں ہونے والے جرائم کے محاسبے کے لیے کارروائیوں کا آغاز کیا تھا، جس کا اختتام اس سنگین فیصلے پر ہوا ہے۔ اگرچہ بشار الاسد اس وقت روس میں پناہ گزین ہیں اور سزا کے وقت عدالت میں موجود نہیں تھے، لیکن عدالتی ماہرین اور بین الاقوامی مشاہدین کے مطابق اس فیصلے کی سیاسی اور اخلاقی اہمیت انتہائی غیر معمولی ہے۔ عدالت کے اس اقدام کو شام کے مظلوم شہریوں، خاص طور پر خانہ جنگی کے لاکھوں متاثرین، بے گھر افراد اور جان بحق ہونے والوں کے خاندانوں کے لیے ایک اہم اخلاقی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے اور اسے مستقبل کے ظالم حکمرانوں کے لیے ایک سخت اور واضح پیغام قرار دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ بشار الاسد کو روس سے واپس لا کر سزا پر عمل درآمد کروانا فی الحال ایک بڑا سفارتی اور قانونی چیلنج رہے گا، لیکن یہ فیصلہ عالمی عدالتوں اور بین الاقوامی اداروں میں ان کے خلاف تحویل کے مطالبات کو مزید تقویت دے گا۔ شام کی سڑکوں پر اور دنیا بھر میں مقیم شامی تارکینِ وطن کے درمیان اس فیصلے کے بعد خوشی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور اسے ملک میں قانون کی حکمرانی اور دیرپا انصاف کی سمت میں پہلا اور اہم قدم تسلیم کیا جا رہا ہے۔ جیسے وفاقی کابینہ کا مکہ معاہدے پر قیادت کو زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا تھا، اسی طرح شامی عوام بھی اس عدالتی فیصلے کو انصاف کی جیت قرار دے رہے ہیں۔ اس سے قبل مکہ معاہدہ صرف دفاعی ہے، خطے میں امن لائیں گے: شہباز شریف کے بیان نے بھی علاقائی امن کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا، اور اب بشار الاسد کے خلاف یہ عدالتی کارروائی خطے میں ایک نئی قانونی بحث کا آغاز کرے گی۔

ٹیگز: #بشار الاسد #جنگی جرائم #دمشق #سزائے موت #شام
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں