اسٹیٹ بینک کی ایس ایم ایز فنانسنگ بڑھانے کی نئی حکمت عملی

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے چیف منیجر انصر افتخار بٹ نے کہا ہے کہ ایس ایم ایز (چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں) کی فنانسنگ بڑھانے کے لیے ایک جامع نئی حکمت عملی پر کام کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ایس ایم ایز کی ویلیو چین فنانسنگ کو فروغ دیا جائے گا اور بڑی کمپنیوں سے منسلک ایس ایم ایز کی فنانسنگ اور ہینڈ ہولڈنگ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دورہ کے موقع پر کیا۔ قائم مقام صدر لاہور چیمبر تنویر احمد شیخ نے اسٹیٹ بینک کے وفد کا خیرمقدم کیا۔ وفد میں ڈپٹی چیف منیجر بلال شفقت، ڈپٹی ڈائریکٹر عمر مخدوم اور دیگر افسران شامل تھے، جبکہ لاہور چیمبر کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان شیخ فیاض اور ندیم انصاری بھی ملاقات میں موجود تھے۔
متبادل فنانسنگ ماڈلز کی ضرورت
قائم مقام صدر لاہور چیمبر تنویر احمد شیخ نے اس موقع پر کہا کہ ایس ایم ایز کے لیے صرف کولیٹرل (اثاثہ جات) پر مبنی فنانسنگ پر انحصار کرنے کے بجائے متبادل فنانسنگ ماڈلز متعارف کرانے کی شدید ضرورت ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ لوکل ایل سی کے ماڈلز اور انشورنس بیسڈ فنانسنگ میکانزم کے ذریعے بھی کاروباری اداروں کو سہولت فراہم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ٹیکسٹائل سیکٹر فنانسنگ کے حصول اور ایل سیز (LCs) کھولنے میں شدید مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ روس افغانستان، پاکستان اور انڈیا کے راستے بحر ہند تک ریل چلانے کا خواہشمند کے تناظر میں انہوں نے مزید کہا کہ بینک ٹیکسٹائل سیکٹر کو فنانسنگ فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جس سے صنعتی پیداواری اور برآمدی سرگرمیاں براہِ راست متاثر ہو رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسٹیٹ بینک ٹیکسٹائل سمیت اہم صنعتی شعبوں کو درپیش فنانسنگ کے مسائل کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات کرے۔

لاہور چیمبر میں اسٹیٹ بینک ڈیسک
تنویر احمد شیخ نے تجویز دی کہ لاہور چیمبر میں اسٹیٹ بینک کا ایک مستقل ڈیسک قائم کیا جائے تاکہ کاروباری برادری کے فنانسنگ سے متعلق کیسز اور مسائل کا فوری اور براہ راست ازالہ ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف کاروباری افراد کو سہولت ملے گی بلکہ بینکنگ معاملات میں غیر ضروری تاخیر کا خاتمہ بھی ہوگا۔ انہوں نے راولپنڈی رنگ روڈ منصوبے کا 14 اگست کو افتتاح متوقع مریم نواز افتتاح کریں گی جیسے ترقیاتی منصوبوں کی طرح معاشی استحکام کیلئے آسان کاروبار سکیم کے طریقہ کار کو مزید سادہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
مشترکہ حکمت عملی
انصر افتخار بٹ نے کہا کہ لاہور چیمبر ایسے مخصوص شعبوں اور کمپنیوں کی نشاندہی کرے جہاں ایس ایم ای فنانسنگ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے تاکہ ان شعبوں کے لیے مؤثر فنانسنگ میکانزم وضع کیے جا سکیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ بڑی کمپنیوں کی جانب سے ایس ایم ایز کو ضمانت (Guarantee) فراہم کرنے سے ڈاکومینٹیشن اور دیگر فنانسنگ مسائل کافی حد تک حل ہو سکتے ہیں۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور آذربائیجان کے سفیر کی الوداعی ملاقات کے بعد ہونے والے ان رابطوں کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لاہور چیمبر ایس ایم ایز کے مسائل کے حل کے لیے ایک فوکل پرسن مقرر کرے، جبکہ اسٹیٹ بینک لاہور چیمبر کے ساتھ مل کر ایس ایم ایز کے فروغ کے لیے کام کرے گا۔ آخر میں انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایس ایم ایز کی فنانسنگ کو مؤثر بنانا پائیدار معاشی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
