مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ مسلم امہ کے اتحاد کیلئے اہم پیش رفت

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کے حوالہ سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ معاہدہ مسلم امہ کے اتحاد اور خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک نہایت اہم اور تاریخی پیش رفت ہے۔ اس ضمن میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ تاریخی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
مکہ معاہدہ: مسلم امہ کیلئے نئی امید اور اتحاد کا نشان
وزارت آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان میں شزا فاطمہ خواجہ نے مزید کہا کہ اس تاریخی مکہ معاہدے سے مسلم امہ کے لیے امن، اتحاد اور باہمی تعاون کی نئی راہیں ہموار ہوں گی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ معاہدہ آنے والی نسلوں کے لیے اعتماد اور مشترکہ خوشحالی کی نئی نوید ثابت ہوگا۔ یاد رہے کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر وضاحت پہلے ہی اس اہم پیش رفت کی اہمیت کو اجاگر کر چکی ہے۔
قیادت کی بصیرت اور عسکری و سیاسی ہم آہنگی
شزا فاطمہ خواجہ نے مکہ معاہدے پر وزیراعظم محمد شہباز شریف، ولی عہد محمد بن سلمان اور صدر رجب طیب اردوان کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ایسی بصیرت افروز قیادت ہی قوموں کو قریب لاتی اور خطے میں امن کی نئی راہیں کھولتی ہے۔ وفاقی وزیر نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی کاوشوں پر پوری قوم کی جانب سے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ عسکری و سیاسی قیادت کی انتھک کوششوں کے نتیجے میں پاکستان کو عالمی سطح پر امن کے علمبردار کا نیا وقار حاصل ہوا ہے، جس کے اثرات پاک، سعودیہ، ترکیہ معاہدے میں جنرل عاصم منیر کا کردار کلیدی ہے کے تناظر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
اتحاد، عزم اور امید کی نئی لہر
اپنے بیان کے اختتام پر وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ مکہ معاہدہ کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا جو کہ دفاعی یکجہتی کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے پوری مسلم امہ میں اتحاد، عزم اور امید کی ایک نئی لہر پیدا ہوئی ہے جو مستقبل میں خطے کے استحکام کے لیے کلیدی کردار ادا کرے گی۔
