پاکستان کے کان کنی کے شعبے کیلئے جامع ڈیجیٹل روڈ میپ ضروری

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ فائونڈر ز گروپ کے سرگرم رکن، پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن، سینئر نائب صدر فیروز پور روڈ بورڈ اور سابق ممبر لاہور چیمبر آف کامرس خادم حسین نے کہا ہے کہ پاکستان کے کان کنی کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سرکاری و نجی اداروں، تعلیمی مراکز اور صنعت کے درمیان مضبوط اشتراک کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نظام اور تربیت یافتہ افرادی قوت ہی اس شعبے کی پائیدار ترقی کی ضمانت بن سکتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کا فروغ معاشی ترقی کی کنجی ہے
اپنے ایک بیان میں خادم حسین نے کہا کہ دنیا بھر میں کان کنی کی صنعت تیزی سے ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب بڑھ رہی ہے، جبکہ پاکستان کو بھی اس رفتار کا حصہ بننے کے لیے موثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، خودکار نظام اور ڈیٹا پر مبنی فیصلے نہ صرف پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ اخراجات میں کمی اور حفاظتی معیار کو بھی بہتر بناتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے صنعت اور تعلیمی اداروں کے درمیان مضبوط روابط قائم کرنا ناگزیر ہے تاکہ جدید مہارتوں سے آراستہ افرادی قوت تیار کی جا سکے۔
تربیتی پروگرام اور جدید آلات کا استعمال
خادم حسین نے مزید کہا کہ آپریٹرز اور انجینئرز کی عملی تربیت کے لیے جدید سمیولیٹرز اور ڈیجیٹل تربیتی پروگرام متعارف کرانے سے شعبے کی مجموعی کارکردگی میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان معدنی وسائل سے مالا مال ملک ہے تاہم ان وسائل سے مکمل استفادہ جدید سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور شفاف پالیسیوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
قومی ڈیجیٹل روڈ میپ کی تشکیل
حکومت، صنعت، جامعات اور ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ادارے اگر مشترکہ حکمت عملی اپنائیں تو پاکستان کا کان کنی کا شعبہ نہ صرف ملکی معیشت میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور سرمایہ کاری کے فروغ کا بھی موثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ کان کنی کے شعبے کے لیے ایک جامع قومی ڈیجیٹل روڈ میپ تیار کیا جائے جس میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، افرادی قوت کی مسلسل تربیت، تحقیق و ترقی، سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور سرکاری و نجی شعبے کے موثر اشتراک کو ترجیح دی جائے تاکہ پاکستان معدنی وسائل سے بھرپور معاشی فوائد حاصل کر سکے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں چین 2030 تک 4 کروڑ سے زائد ای وی چارجنگ سہولیات قائم کرنے کا اعلان کر چکا ہے، اسی طرز پر پاکستان کو بھی اپنے صنعتی اہداف متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ کان کنی کے شعبے میں جدید رجحانات پر غور کرتے ہوئے مستقبل میں دفاعی ٹیکنالوجی ادارے کے سابق نائب سربراہ کی سطح پر شفافیت کے اصولوں کو بھی لاگو کیا جانا چاہیے۔
