حکومت اور نجی شعبہ مشترکہ حکمت عملی سے تجارتی خسارہ کم کریں

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف) کے بانی میاں شفقت علی، پیٹرن انچیف انجینئر سہیل لاشاری، چیئرمین سید محمود غزنوی، سینئر وائس چیئرمین خواجہ کاشف الٰہی، وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن اور چیئرمین ایسوسی ایٹ کلاس فرخ احسان خان نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے درآمدات اور برآمدات میں توازن ناگزیر ہے۔ پیاف کے رہنماؤں نے زور دیا کہ گورنر اور وفاقی وزیر کا سمندری آلودگی کے تدارک پر اتفاق کی طرز پر معاشی شعبوں میں بھی باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے۔
برآمدات میں اضافہ اور معاشی استحکام
رہنماؤں نے کہا کہ حالیہ معاشی رجحانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ درآمدی دباؤ اب بھی برقرار ہے، لہٰذا برآمدات میں اضافے کے لیے صنعت کو ہنگامی بنیادوں پر مزید سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ توانائی کی بلند لاگت پیداواری شعبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے، جبکہ خام مال اور صنعتی مشینری کی دستیابی کو آسان بنایا جانا چاہیے تاکہ پیداواری عمل متاثر نہ ہو۔ اس ضمن میں محسن نقوی کا پولیس افسران کے لیے غیر ملکی تربیت کا اعلان جیسے اصلاحاتی اقدامات کی طرح صنعت کے شعبے میں بھی جدید تکنیکی مہارتوں کے تبادلے کی ضرورت ہے۔
نئی منڈیوں کی تلاش اور پیداواری لاگت میں کمی
پیاف کے قائدین کا کہنا تھا کہ برآمد کنندگان کو بروقت ریفنڈز اور مالی سہولیات فراہم کی جائیں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے لیے خصوصی مراعات متعارف کرائی جائیں اور زرعی و ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے نئی منڈیاں تلاش کی جائیں۔ مزید برآں، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے پیداواری لاگت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ بندرگاہوں اور کسٹمز کے نظام کو مزید موثر اور تیز بنایا جائے۔ جس طرح ایتھوپین ایئرلائنز کے سابق سربراہ ٹیوولڈے گیبریمریم ایئر انڈیا کے سی ای او مقرر، پی آئی اے میں شمولیت کے لیے بھی بات چیت جاری تھی، اسی طرح بین الاقوامی ماہرین کی مشاورت سے مقامی صنعت کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالنے پر خصوصی توجہ دی جائے۔
مشترکہ حکمت عملی اور ٹیکس مراعات
رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پالیسیوں میں تسلسل سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کرے گا۔ برآمدی شعبے کو سستی توانائی اور آسان قرضوں کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ برآمدی صنعتوں کے لیے ٹیکس مراعات دی جائیں اور لاجسٹکس کے نظام میں بہتری لائی جائے۔ حکومت اور نجی شعبہ مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے تجارتی خسارہ کم کر سکتے ہیں۔ امید ہے کہ موثر معاشی اصلاحات سے تجارت، سرمایہ کاری اور ملکی معیشت کو پائیدار استحکام حاصل ہوگا۔
