مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,405 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,592 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,405 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,592
قومی

این ڈی ایم اے کا ملک کے بالائی علاقوں میں سیلاب کا الرٹ

📅 منگل، 04 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے ملک کے بالائی علاقوں میں جاری مسلسل بارشوں کے پیش نظر ممکنہ سیلابی صورتحال کا ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ ملک میں جاری حالیہ موسمیاتی تبدیلیوں اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط بجلی کی سستی فراہمی میں رکاوٹ بننے جیسی معاشی مشکلات کے ساتھ ساتھ اب قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بھی ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ این ڈی ایم اے کے جاری کردہ بیان کے مطابق راولپنڈی، اسلام آباد، جہلم، گوجرانوالہ، سرگودھا، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، گجرات، نارووال، لاہور اور فیصل آباد کے شہری علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا شدید خدشہ ہے۔ اسی طرح پشاور، نوشہرہ، چارسدہ اور مردان کے علاوہ سندھ کے اضلاع میرپورخاص، عمرکوٹ اور تھرپارکر میں بھی شہری علاقوں میں سیلاب متوقع ہے۔

ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے دیگر علاقے

این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ الرٹ میں خیبرپختونخوا، پنجاب اور شمال مشرقی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ممکنہ سیلابی صورتحال کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ میانوالی، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور کے پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی اور اچانک سیلاب کا خطرہ ہے۔ جبکہ چترال، سوات، دیر، مالاکنڈ، باجوڑ، بنوں، لکی مروت، کوہاٹ، مردان، صوابی، کرک، ہنگو، خیبر، کرم، شمالی وزیرستان، شانگلہ اور پشاور کے ندی نالوں میں بھی اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ بلوچستان کے ژوب، بارکھان، زیارت، موسیٰ خیل، دکی اور بالخصوص دریائے ناری اور دریائے لہڑی کے علاقوں میں بھی سیلابی ریلوں کا خطرہ موجود ہے۔

گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں صورتحال

گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھی اچانک سیلابی صورتحال متوقع ہے۔ غذر، یاسین، اشکومن، تانگیر، داریل، دیامر، استور، گانچھے، ہنزہ اور گلگت کے دریاؤں اور ندی نالوں میں اچانک سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ چپورسن، شمشال، خنجراب، شنگو، روپال، داریل، تانگیر اور بگروٹ گاہ سمیت متعدد مقامی آبی گزرگاہوں میں بہاؤ کی شدت میں اضافے کا خدشہ ہے۔ آزاد کشمیر کے باغ، مظفرآباد، ہٹیاں بالا، بھمبر، راولاکوٹ، پلندری اور کوٹلی کے علاقوں میں بھی ہنگامی صورتحال کا امکان ہے۔ اس وقت ملک میں نئے صوبوں کا قیام مؤثر طرز حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے، بزنس لیڈرز زاہد اقبال، شاہد عمران اور سیف الرحمان کا مشترکہ بیان کے تناظر میں بھی انتظامی امور پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ ہنگامی حالات میں بروقت ریلیف پہنچایا جا سکے۔ مزید برآں آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹرز اتحاد کا 8 اگست سے ملک گیر پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کے باعث نقل و حمل کے مسائل بھی پیش آ سکتے ہیں، لہذا عوام کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

عوام کے لیے حفاظتی ہدایات

مقامی انتظامیہ کو حساس علاقوں میں ضروری وسائل پیشگی منتقل کرنے اور محفوظ انخلا کے انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ این ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سیلابی نالوں، زیر آب سڑکوں، پلوں اور تیز آبی بہاؤ کو عبور کرنے سے گریز کریں۔ سیلابی خطرے سے دوچار آبادیوں کے رہائشی، سیاح اور مسافر ندی نالوں اور دریا کے کناروں سے دور رہیں۔ مون سون کے دوران پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور ملبے کے ریلوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، لہذا سفر سے قبل موسم کی تازہ ترین پیش گوئی ضرور جان لیں۔ یاد رکھیں کہ تیز بہاؤ والا پانی انتہائی خطرناک ہوتا ہے جو گاڑیوں اور انسانوں کو بہا سکتا ہے۔ سیاحتی سرگرمیوں کے دوران محتاط رہیں اور اپنے ساتھ پینے کا پانی، خشک خوراک، ٹارچ، ابتدائی طبی امداد کا سامان اور پاور بینک ضرور رکھیں۔ عوام این ڈی ایم اے کی آفیشل ایپ ‘پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ’ سے بروقت معلومات حاصل کریں۔

ٹیگز: #این ڈی ایم اے #پاکستان #سیلاب الرٹ #قدرتی آفات #مون سون
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں