مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,774 USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,774
عالمی

جاپان: ٹوکیو کے چڑیا گھر میں شدید گرمی سے تین شیر ہلاک

📅 منگل، 04 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

ٹوکیو (نمائندہ خصوصی)۔ جاپان سمیت مشرقی ایشیا کے مختلف ممالک اس وقت شدید گرمی کی لہر اور غیر معمولی حبس کی لپیٹ میں ہیں، جہاں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے نہ صرف انسانی زندگی بلکہ جنگلی حیات کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اسی سلسلے میں جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو کے ایک معروف چڑیا گھر میں محض ایک ہفتے کے دوران تین شیروں کی ہلاکت نے جنگلی حیات کے ماہرین، ویٹرنری ڈاکٹروں اور ماحولیات سے وابستہ اداروں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق شیروں کی اموات کا تعلق شدید گرمی اور ہیٹ اسٹریس سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

شیروں کی ہلاکت: طبی وجوہات اور ہیٹ اسٹریس

چڑیا گھر کی انتظامیہ اور ویٹرنری ماہرین کے مطابق ہلاک ہونے والے تینوں شیروں میں شدید گرمی کے باعث پیدا ہونے والی متعدد طبی علامات دیکھی گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شیروں کے جسم میں شدید ڈی ہائیڈریشن، یعنی پانی اور ضروری نمکیات کی خطرناک حد تک کمی واقع ہوئی، جس کے نتیجے میں ان کی جسمانی حالت تیزی سے بگڑتی گئی۔ اس کے علاوہ مسلسل بلند درجہ حرارت کی وجہ سے ان کے جسم کا قدرتی درجہ حرارت معمول پر نہ رہ سکا، جس کے باعث اندرونی اعضا متاثر ہوئے اور بالآخر ملٹی پل آرگن فیلیئر (Multiple Organ Failure) جیسی پیچیدگیاں پیدا ہو گئیں، جو شدید ہیٹ اسٹروک کی نمایاں علامات میں شمار کی جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ افریقی اور ایشیائی شیر قدرتی طور پر نسبتاً گرم علاقوں میں رہنے کے عادی ہوتے ہیں، تاہم چڑیا گھروں کے محدود، بند اور مصنوعی ماحول میں غیر معمولی حد تک بڑھنے والا درجہ حرارت ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ایسے ماحول میں جانور اپنی جسمانی حرارت کو قدرتی انداز میں خارج نہیں کر پاتے، جس کے باعث ہیٹ اسٹریس کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی عالمی حدت

دوسری جانب جاپان اور مشرقی ایشیا کے دیگر علاقوں میں اس سال گرمی نے گزشتہ کئی دہائیوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ٹوکیو سمیت مختلف شہروں میں درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ نمی کی بلند شرح نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ماہرینِ ماحولیات کے مطابق یہ غیر معمولی موسمی حالات موسمیاتی تبدیلی (Climate Change) اور گلوبل وارمنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات کی واضح مثال ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خطے جو کبھی معتدل اور خوشگوار موسم کے لیے مشہور تھے، اب وہاں شدید اور طویل گرمی کی لہریں معمول بنتی جا رہی ہیں، جس کے اثرات انسانوں کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات پر بھی نمایاں طور پر مرتب ہو رہے ہیں۔

انتظامیہ کی جانب سے ہنگامی اقدامات

شیروں کی یکے بعد دیگرے ہلاکت کے بعد چڑیا گھر کی انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے تاکہ باقی جانوروں کو شدید گرمی کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ انتظامیہ کے مطابق جانوروں کے پنجروں اور رہائشی حصوں میں جدید کولنگ سسٹمز، ایئر کنڈیشنرز، واٹر مسٹنگ فینز اور دیگر ٹھنڈک فراہم کرنے والے آلات نصب کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جانوروں کو ہر وقت ٹھنڈا اور صاف پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ ان کے تالابوں اور آرام گاہوں میں برف کے بڑے بلاکس بھی ڈالے جا رہے ہیں تاکہ ماحول کا درجہ حرارت کم رکھا جا سکے۔ جانوروں کی خوراک میں بھی ایسی غذائیں شامل کی جا رہی ہیں جو جسم میں پانی کی مقدار برقرار رکھنے اور گرمی کے اثرات کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوں۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیموں اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر موسمیاتی تبدیلیوں کی رفتار کو کم کرنے اور چڑیا گھروں میں جانوروں کے تحفظ کے لیے جدید سہولیات فراہم کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو مستقبل میں اس نوعیت کے مزید افسوسناک واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت صرف انسانوں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے نایاب اور قیمتی جنگلی جانوروں کی بقا کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بنتی جا رہی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ٹیگز: #ٹوکیو #جاپان #شیر #موسمیاتی تبدیلی #ہیٹ ویو
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں