امریکہ کا نیا ویزا قانون، سیاحتی و کاروباری ویزوں کیلئے بانڈ لازم

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ امریکی انتظامیہ نے بیرونِ ملک سے آنے والے سیاحوں اور کاروباری افراد کے لیے ویزا قوانین کو مزید سخت کرتے ہوئے ‘ویزہ بانڈ پروگرام’ (Visa Bond Program) کو مستقل بنیادوں پر نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس نئے اقدام کے تحت بعض مخصوص ممالک کے شہریوں کو امریکہ کا کاروباری (B-1) یا سیاحتی (B-2) ویزا حاصل کرنے کے لیے 5 ہزار سے 20 ہزار امریکی ڈالر تک کی رقم بطور ضمانت (سیکیورٹی ڈپازٹ) جمع کرانی پڑ سکتی ہے۔ حکام کے مطابق اس پروگرام کا مقصد امریکہ میں ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی طور پر قیام کرنے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کرنا اور امیگریشن قوانین پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔
ویزا بانڈ پروگرام کا طریقہ کار
امریکی محکمہ خارجہ اور متعلقہ حکام کے مطابق ویزا بانڈ پروگرام کے تحت ہر درخواست گزار کے کیس کا انفرادی جائزہ لیا جائے گا۔ درخواست گزار سے اس کے حالات، سفر کی نوعیت اور دیگر عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے 5 ہزار، 10 ہزار یا 20 ہزار ڈالر تک بطور ضمانت طلب کیے جا سکتے ہیں۔ اگر مسافر اپنے ویزے کی مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے یا مقررہ وقت پر امریکہ سے واپس اپنے ملک روانہ ہو جاتا ہے تو جمع کرائی گئی پوری رقم واپس کر دی جائے گی۔ تاہم اگر کوئی شخص ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کرتا ہے، امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے یا غیر قانونی طور پر امریکہ میں رہائش اختیار کرتا ہے تو یہ ضمانتی رقم امریکی حکومت کے حق میں ضبط کر لی جائے گی۔ یاد رہے کہ پاکستان جیسے ممالک کے لیے سفارتی سطح پر پاک۔ایران جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی کا اجلاس، تجارت 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا عزم جیسے اقدامات کے برعکس، امریکہ کی یہ پالیسی امیگریشن کنٹرول پر مرکوز ہے۔
پروگرام کا پس منظر اور وجوہات
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران کاروباری اور سیاحتی ویزوں پر امریکہ آنے والے متعدد غیر ملکی شہری ویزے کی مدت ختم ہونے کے باوجود واپس اپنے ممالک نہیں لوٹے، جس کے باعث امیگریشن نظام پر اضافی دباؤ بڑھا۔ ایسے افراد کی تلاش، قانونی کارروائی اور ملک بدری کے عمل پر حکومت کو بھاری مالی اور انتظامی اخراجات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اس حوالے سے اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ کو فون، خطے اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کی صورتحال پر تبادلہ خیال جیسی سفارتی کوششوں کے برعکس، امریکہ اپنی داخلی پالیسیوں میں مزید سختی لا رہا ہے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر ویزا بانڈ پروگرام کو پہلے محدود پیمانے پر آزمائشی منصوبے کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا، اور اب اس کے نتائج کو مؤثر قرار دیتے ہوئے اسے مستقل پالیسی کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔
پالیسی کا اطلاق اور ردعمل
حکام کے مطابق یہ پروگرام ہر ملک پر یکساں طور پر لاگو نہیں ہوگا بلکہ بنیادی طور پر ان ممالک کے شہریوں کو اس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جہاں ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کرنے کی شرح نسبتاً زیادہ ہے یا جہاں سیکیورٹی معلومات کے تبادلے اور سفری دستاویزات کی جانچ کے حوالے سے امریکی معیار کے مطابق مکمل تعاون دستیاب نہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ہر درخواست کا جائزہ انفرادی بنیادوں پر لیا جائے گا اور ضرورت کے مطابق بانڈ کی رقم کا تعین کیا جائے گا۔ دوسری جانب معاشی، قانونی اور امیگریشن امور کے ماہرین نے اس فیصلے پر مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق 20 ہزار امریکی ڈالر تک کی ضمانتی رقم عام سیاحوں، طلبہ کے اہل خانہ اور چھوٹے کاروباری افراد کے لیے ایک بہت بڑا مالی بوجھ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے امریکہ کا سفر بہت سے لوگوں کی پہنچ سے باہر ہو جائے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں چین میں چار فلک بوس عمارتوں کو جوڑنے والی دنیا کی منفرد افقی عمارت "دی کرسٹل” جیسے جدید ممالک کے مقابلے میں امریکہ کی سیاحتی کشش پر اثر پڑ سکتا ہے۔
