مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,843 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,843
زراعت

آرگینک زراعت کے فروغ کیلئے قومی بورڈ کا قیام ناگزیر ہے، نجم مزاری

📅 اتوار، 02 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
آرگینک زراعت کے فروغ کیلئے قومی بورڈ کا قیام ناگزیر ہے، نجم مزاری
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ آرگینک خوراک اور مصنوعات پر تحقیق کرنے والے ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے ملک میں آرگینک شعبے کی ترقی اور اس کے منظم فروغ کے لیے ایک اعلیٰ سطحی قومی بورڈ تشکیل دینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قومی بورڈ میں چاروں صوبوں کی مساوی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایک مشترکہ اور مربوط حکمت عملی کے تحت اس شعبے کو ترقی دی جا سکے۔

زرعی تنوع اور برآمدی صلاحیت میں اضافہ

اپنے ایک بیان میں نجم مزاری نے کہا کہ پاکستان کو اب روایتی فصلوں کے فرسودہ دائرہ کار سے نکل کر زعفران، چیا سیڈ، چائے اور مختلف اقسام کے قیمتی مصالحہ جات جیسی نئی اور زیادہ منافع بخش اجناس کی کاشت پر خصوصی توجہ مرکوز کرنی چاہیے، کیونکہ ان فصلوں کی عالمی منڈی میں مانگ بہت زیادہ ہے اور ان میں برآمدی صلاحیت بھی بے پناہ ہے۔ پاکستان کے نوجوان معاشی ترقی کا انجن، بروقت سرمایہ کاری ضروری ہے کہ اس شعبے میں جدید خطوط پر کام کیا جائے تاکہ قومی معیشت کو سہارا مل سکے۔

سرٹیفکیشن اور ٹریسبلٹی کے چیلنجز

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آرگینک زراعت کے فروغ کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے متعدد بار مطالبات کیے جا چکے ہیں، تاہم اب تک ان پر خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی، جس کے نتیجے میں کسانوں کا اس منافع بخش شعبے کی جانب رجحان تاحال محدود ہے۔ نجم مزاری کا مزید کہنا تھا کہ اگر آرگینک خوراک اور مصنوعات کی بین الاقوامی معیار کے مطابق سرٹیفکیشن اور ٹریسبلٹی کو یقینی بنایا جائے تو پاکستان عالمی منڈی میں اپنی زرعی مصنوعات کی برآمدات سے اربوں ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل کر سکتا ہے۔

نوجوانوں کی زراعت میں شمولیت

نجم مزاری نے خبردار کیا کہ نوجوان نسل تیزی سے زراعت کے شعبے سے دور ہو رہی ہے، جس کے باعث مستقبل قریب میں زرعی شعبے کو افرادی قوت کے سنگین بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس تشویشناک صورتحال سے نمٹنے کے لیے 40 سال تک کی عمر کے نوجوانوں کو سرکاری زرعی اراضی آسان شرائط پر لیز پر دی جائے اور انہیں بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں تاکہ وہ جدید اور سائنسی زراعت کی جانب راغب ہو سکیں۔ چھ ہندسوں کی کمائی والے 10 بہترین چھوٹے کاروباری آئیڈیاز کے ذریعے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے حوالے سے زرعی پالیسیوں کو ترتیب دیا جانا وقت کی ضرورت ہے۔

بروقت فیصلوں کی اہمیت

انہوں نے مزید کہا کہ اگر نوجوانوں کو مناسب مراعات، جدید تربیت اور مالی سہولتیں فراہم کی جائیں تو نہ صرف ملکی زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا بلکہ دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے اور پائیدار مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ نجم مزاری نے اس بات پر زور دیا کہ زرعی شعبے کی ترقی، خوراک کے تحفظ اور ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے بروقت اور جرات مندانہ فیصلے ناگزیر ہیں، بصورت دیگر مستقبل میں ملک کو مزید سنگین معاشی اور زرعی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خلاء میں ڈیٹا سینٹرز کی طرح ہمیں زراعت میں بھی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنانا ہوگا۔

ٹیگز: #آرگینک زراعت #برآمدات #پاکستان کی معیشت #زرعی پالیسی #نجم مزاری
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں