مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,990 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,990
تازہ ترین

مصنوعی ذہانت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خلاء میں ڈیٹا سینٹرز

📅 اتوار، 02 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
مصنوعی ذہانت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خلاء میں ڈیٹا سینٹرز (تصویر 1)
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث کمپیوٹنگ کی ضروریات میں غیرمعمولی اضافے کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں خلاء میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے منصوبوں پر غور کر رہی ہیں۔ یہ منصوبہ ایک ایسے دور میں سامنے آیا ہے جب ٹیکنالوجی کے شعبے میں واٹس ایپ کا بزنس پیغامات کے لیے خصوصی فولڈر متعارف کرانے کا فیصلہ جیسے اقدامات سے ڈیجیٹل سرگرمیوں کا دائرہ کار وسیع ہو رہا ہے۔ مجوزہ خلائی ڈیٹا سینٹرز شمسی توانائی سے چلنے والے ہائی پرفارمنس کمپیوٹنگ سسٹمز پر مشتمل ہوں گے، جس سے زمین پر قائم روایتی ڈیٹا سینٹرز کے لیے درکار بجلی، پانی اور زمین پر انحصار کم کیا جا سکے گا۔

خلاء میں ڈیٹا سینٹرز: تکنیکی و ماحولیاتی پہلو

مصنوعی ذہانت کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خلاء میں ڈیٹا سینٹرز (تصویر 2)

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسپیس ایکس، بلیو اوریجن اور دیگر ٹیکنالوجی کمپنیاں مصنوعی ذہانت کے لیے مدار میں ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ اس منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ خلاء میں موجود ڈیٹا سینٹرز کو مسلسل شمسی توانائی میسر آ سکتی ہے، جس سے مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی کمپیوٹنگ ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ اس منصوبے کو زمین پر قائم ڈیٹا سینٹرز کی بڑھتی ہوئی توانائی، پانی اور انفراسٹرکچر کی ضروریات کا ممکنہ حل قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کے ساتھ کمپیوٹنگ وسائل کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔

تحفظات اور ماحولیاتی خدشات

تاہم اس منصوبے پر ماحولیاتی تنظیموں، سائنس دانوں اور فلکیاتی ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر خلائی ڈیٹا سینٹرز قائم کرنے کے لیے ہزاروں بلکہ ممکنہ طور پر لاکھوں اضافی سیٹلائٹس خلا میں بھیجنے پڑ سکتے ہیں، جس سے خلائی ملبے میں اضافہ، راکٹ لانچز کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ اور سیٹلائٹس کے دوبارہ زمین کے ماحول میں داخل ہونے سے فضائی آلودگی کے خدشات پیدا ہوں گے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سے اوزون کی تہہ متاثر ہونے اور روشنی کی آلودگی میں اضافے کا بھی امکان ہے، جس کے باعث فلکیاتی مشاہدات اور سائنسی تحقیق متاثر ہو سکتی ہے۔ جیسے کہ اسرائیل کا دفاع برقرار رکھنا مشکل، امریکی جنرل کا اہم انتباہ جیسے معاملات عالمی سطح پر پالیسی سازی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں، اسی طرح ماحولیاتی ماہرین نے امریکی فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن (FCC) اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے منصوبوں کی منظوری سے قبل ان کے ماحولیاتی اثرات کا جامع جائزہ لیا جائے۔ ان کے مطابق موجودہ قوانین خلاء میں بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ممکنہ عالمی اثرات کا مکمل احاطہ نہیں کرتے۔ اگرچہ اس منصوبے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ خلائی ڈیٹا سینٹرز مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے لیے پائیدار کمپیوٹنگ صلاحیت فراہم کر سکتے ہیں، تاہم صنعت سے وابستہ ماہرین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور اس کی تکنیکی و تجارتی کامیابی ابھی ثابت ہونا باقی ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کی کامیابی کا انحصار انجینئرنگ، ضابطہ جاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر مؤثر انداز میں قابو پانے پر ہوگا۔ مستقبل میں چھ ہندسوں کی کمائی والے 10 بہترین چھوٹے کاروباری آئیڈیاز کی طرح ہی ٹیکنالوجی کے نئے شعبے معاشی ترقی کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں، بشرطیکہ ان کے ماحولیاتی اثرات کو مدنظر رکھا جائے۔

ٹیگز: #اسپیس ایکس #ٹیکنالوجی #ڈیٹا سینٹرز #ماحولیاتی اثرات
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں