ٹرمپ ایران کے خلاف سخت ترین اقدامات کے لیے مکمل تیار ہیں

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف ایسے سخت اور فیصلہ کن اقدامات کرنے کے لیے تیار ہیں جو ماضی کی کسی بھی امریکی حکومت نے کبھی نہیں کیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تہران اب مزید بے نتیجہ مذاکرات کے ذریعے وقت حاصل کرنے کی پالیسی جاری نہیں رکھ سکتا اور اسے اپنے اقدامات کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
ایران نے آج تک ڈونلڈ ٹرمپ جیسے صدر کا سامنا نہیں کیا
مارکو روبیو نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں ایران نے آج تک ڈونلڈ ٹرمپ جیسے صدر کا سامنا نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے اپنا مؤقف دو ٹوک الفاظ میں بیان کر دیا ہے کہ ایران کو یا تو بامعنی معاہدے کی طرف آنا ہوگا یا پھر امریکہ اپنے مفادات اور اتحادیوں کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھائے گا۔ یاد رہے کہ اب تو وزرا بھی ملکی حالات پر سوال اٹھانے لگے، شاہد خاقان عباسی کے بیانات کی طرح بین الاقوامی سطح پر بھی سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
مذاکرات کے ذریعے وقت کا حصول اب ناممکن
امریکی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی برادری سے جھوٹ بولتا رہا ہے، معاہدوں کی خلاف ورزی کرتا آیا ہے اور مذاکرات کو محض وقت حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ امریکی انتظامیہ اس پرانے طرز عمل کو مزید برداشت نہیں کرے گی اور ایران کو اس حکمت عملی سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ جس طرح شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی آپریشن، میجر حافظ احسان الٰہی شہید ہو گئے، سیکیورٹی معاملات پر امریکہ اپنی پالیسیوں میں مزید سختی لانے کا عندیہ دے رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کا سخت موقف
دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جب تک ایران بامعنی مذاکرات کی میز پر واپس نہیں آتا، اسے مسلسل اپنے اقدامات کی قیمت چکانا پڑے گی۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق سفارتی حل اب بھی ان کی ترجیح ہے، تاہم اگر تہران نے کوئی مثبت پیش رفت نہ دکھائی تو واشنگٹن میز پر موجود دیگر تمام آپشنز پر عمل درآمد کے لیے تیار ہے۔ مزید برآں، جیسے کہ اسلام آباد عدالت کا احسن اقبال کے حق میں فیصلہ، مراد سعید پر ہرجانہ جیسے مقدمات ملکی سیاست میں اہمیت رکھتے ہیں، ویسے ہی تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی عالمی سیاست کا اہم مرکز ہے۔
کشیدگی کا پس منظر
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ ایران کے متنازع جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی کے امور اور فوجی سرگرمیوں کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات ایک بار پھر شدید تناؤ کا شکار ہیں۔ امریکی ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران پر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی پر سختی سے عمل پیرا ہے تاکہ اسے ایک نئے، قابلِ عمل معاہدے کے لیے آمادہ کیا جا سکے، جبکہ تہران بدستور اپنے مؤقف پر قائم ہے۔ واشنگٹن اب محض وعدوں یا غیر مؤثر مفاہمت پر اکتفا کرنے کے بجائے قابلِ تصدیق اور ٹھوس عملی نتائج کا متلاشی ہے۔
