سپین مہاجرین بحران: یورپی یونین کا ہنگامی اجلاس منگل کو طلب

برسلز (نمائندہ خصوصی)۔ مراکش سے اسپین کے زیر انتظام علاقے سیوتا میں تقریباً 60 ہزار تارکین وطن کی اچانک آمد کے بعد یورپی یونین نے مہاجرین کے بحران پر ہنگامی اجلاس منگل کو طلب کرلیا، جبکہ 22 رکن ممالک نے یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کو مزید مضبوط بنانے اور بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سیوتا میں تارکین وطن کی غیر معمولی آمد اور ہلاکتیں
اطلاعات کے مطابق سیوتا میں 30 جولائی کو تارکین وطن کی غیر معمولی آمد کے دوران کم از کم 67 افراد ہلاک ہوئے۔ بڑی تعداد میں افراد مراکش سے تیراکی کے ذریعے اسپین کے زیر انتظام علاقے میں داخل ہوئے تھے۔ تاہم ہسپانوی حکام کے مطابق تقریباً تمام افراد واپس مراکش جاچکے ہیں اور صورتحال اب معمول پر آ رہی ہے۔ واضح رہے کہ ماضی میں بھی حماس کے غیر مسلح ہونے تک غزہ سے انخلا نہیں کریں گے، اسرائیل کا اعلان خطے میں مہاجرین کی نقل و حرکت پر گہرا اثر ڈالتا رہا ہے۔
شینجن زون کی سیکیورٹی پر تحفظات
بحران کے بعد یورپی ممالک کے درمیان شینجن زون کی سیکیورٹی اور سرحدی نظام کے حوالے سے شدید تحفظات سامنے آئے ہیں۔ اٹلی نے اسپین کے ساتھ شینجن کے تحت سرحدی چیک ختم کرنے کا انتظام ایک ماہ کے لیے معطل کردیا، جبکہ فن لینڈ اور ڈنمارک نے بھی اس اقدام کی حمایت کی ہے۔ فرانس اور پرتگال نے بھی سرحدی چیکنگ پر غور شروع کردیا ہے، جبکہ ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے یورپی یونین پر زور دیا ہے کہ شینجن تعاون کی معطلی سمیت تمام ممکنہ آپشنز پر غور کیا جائے۔ اسپین کا موقف اور ردعمل اسپین نے بعض یورپی ممالک کے ردعمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لائن کو خط میں کہا کہ اسپین نے 48 گھنٹے سے بھی کم وقت میں سیوتا کی سرحد پر مکمل کنٹرول بحال کرلیا اور تارکین وطن کو براعظم یورپ کی جانب غیر مجاز نقل و حرکت سے روک دیا۔ سانچیز کے مطابق بیشتر یورپی ممالک نے اسپین کے ساتھ یکجہتی اور تعاون کا اظہار کیا، تاہم بعض حکومتوں نے تعصب، جعلی خبروں، لاعلمی یا سیاسی مفادات کی بنیاد پر اسپین کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ہسپانوی وزیراعظم نے یہ بھی واضح کیا کہ سیوتا شینجن زون کا حصہ نہیں ہے۔
یورپی یونین کی مشترکہ حکمت عملی
دوسری جانب یورپی یونین کے 22 رکن ممالک نے مشترکہ خط میں خبردار کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر یورپی یونین میں داخلے کا امکان پیدا ہونے کا تاثر مزید تارکین وطن کو یورپ پہنچنے کی کوشش پر اکسا سکتا ہے، جس سے یورپی یونین کی مشترکہ مہاجرین پالیسی پر اعتماد متاثر ہونے کے ساتھ تمام رکن ممالک پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لائن نے سیوتا سے سامنے آنے والی تصاویر کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو بھی یورپی یونین میں اس کے قوانین کی پابندی کیے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ یاد رہے کہ دنیا بھر میں اس قسم کے بحرانوں کے دوران شہباز شریف کی نواز شریف سے ملاقات، ملکی و سیاسی صورتحال پر مشاورت کی طرح عالمی رہنما بھی مستقل رابطوں میں رہتے ہیں۔ جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے مراکش سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غیر قانونی تارکین وطن کو فوری طور پر واپس لے، جبکہ یورپی ممالک میں شینجن نظام اور بیرونی سرحدوں کی سیکیورٹی پر بحث مزید شدت اختیار کرگئی ہے۔ سیوتا شمالی افریقہ میں مراکش کے ساتھ واقع اسپین کا علاقہ ہے اور سیوتا اور میلیلا یورپی یونین کی افریقہ کے ساتھ واحد زمینی سرحدیں ہیں۔ تارکین وطن طویل فاصلہ تیر کر بھی سیوتا میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یورپی یونین کے 22 ممالک نے بحران کے بعد مشترکہ کارروائی اور بیرونی سرحدوں کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے، جس سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل میں ترکیہ پاکستان ریلوے کی جدید کاری میں اہم اسٹریٹجک ٹیکنالوجی پارٹنر ہے کی طرح دیگر ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے کی ضرورت بھی محسوس کی جا رہی ہے۔
