مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,627 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,627
عالمی

اٹلی نے سپین کے ساتھ شینگن معاہدہ جزوی طور پر معطل کر دیا

📅 ہفتہ، 01 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

روم (نمائندہ خصوصی)۔ اٹلی نے غیر قانونی تارکینِ وطن کی آمد کو روکنے اور قومی سلامتی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے سپین کے ساتھ شینگن معاہدے کے بعض انتظامات کو عارضی طور پر جزوی معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اطالوی حکام کے مطابق یہ اقدام آج سے ایک ماہ کی مدت کے لیے نافذ العمل ہوگا، جس کے دوران بحری اور فضائی سرحدوں پر نگرانی اور چیکنگ مزید سخت کر دی جائے گی۔

سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اہم فیصلہ

اطالوی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ مکمل طور پر عارضی نوعیت کا ہے اور موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر احتیاطی اقدام کے طور پر کیا گیا ہے۔ وزیرِ خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر جاری بیان میں کہا کہ اٹلی اپنی یورپی سرحدوں کے تحفظ اور غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کر رہا ہے۔ جیسا کہ یورپ میں غیر قانونی تارکین وطن کا بحران سنگین، اٹلی نے اسپین کے ساتھ تعلقات اور سرحدی امور میں تبدیلیوں کو اہمیت دی ہے۔

سرحدی نگرانی اور چیکنگ کا دائرہ کار

وزارتِ داخلہ نے واضح کیا ہے کہ سپین سے آنے والی بحری اور فضائی پروازوں اور راستوں پر چیکنگ کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ تاہم یورپی یونین کے رکن ممالک کے شہریوں کی قانونی آمد و رفت معمول کے مطابق جاری رہے گی۔ حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد صرف ایسے غیر یورپی تارکینِ وطن کی نشاندہی کرنا ہے جو سپین کے راستے غیر قانونی طور پر اٹلی میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ صورتحال کافی تشویشناک ہے کیونکہ ماضی میں بھی فیک نیوز/افواہ نے سرحدیں ہلا دیں، ہزاروں افراد یورپ میں داخل ہونے نکل کھڑے ہوئے تھے۔

حکومت کا مؤقف اور مستقبل کے اقدامات

یہ پیش رفت وزیراعظم جارجیا میلونی کے حالیہ بیان کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے غیر قانونی امیگریشن کو اٹلی اور یورپ کے لیے ایک سنگین چیلنج قرار دیتے ہوئے سرحدی نگرانی مزید سخت کرنے پر زور دیا تھا۔ بعد ازاں اطالوی وزیرِ خارجہ نے ایک ماہ کے لیے عارضی معطلی کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں سرحدی تحفظ اولین ترجیح ہے۔ اطالوی حکومت نے یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک پر بھی زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کریں، کیونکہ یہ کسی ایک ملک کا نہیں بلکہ پورے یورپ کا مشترکہ چیلنج ہے۔

ادھر اطالوی وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق فرانس کے ساتھ بھی سرحدی رابطوں کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے، جبکہ مشترکہ نگرانی اور سیکیورٹی اقدامات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایک ماہ کی اس مدت کے دوران صورتحال کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر آئندہ کے اقدامات کا فیصلہ کیا جائے گا، جو کہ ٹرمپ نے ایران پر نئے حملوں کا حکم دے دیا، "بہت سخت” اور بڑے عالمی تناظر میں سیکیورٹی ترجیحات کا حصہ ہے۔

ٹیگز: #اٹلی #تارکین وطن #سپین #شینگن معاہدہ #یورپی یونین
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں